اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

کمزور، جنگ زدہ ممالک کی مدد نہ کی تو کورونا متاثرین کی تعداد کہاں تک پہنچ جائیگی؟بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی نے خبر دار کردیا

datetime 29  اپریل‬‮  2020 |

نیویارک(این این آئی )بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی (آئی آر سی) نے خبردار کیا ہے کہ اگر کمزور ممالک کی فوری مدد نہ کی گئی تو دنیا میں ایک ارب افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق آئی آر سی نے کہا کہ اس وائرس کے عالمی پھیلاؤ کو کم کرنے میں مالی اور انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ادارے کے مطابق کمزور ممالک جیسے افغانستان اور شام کو کسی بڑی وبا سے بچنے کے لیے

فوری فنڈنگ کی ضرورت ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ ’ابھی مختصر وقت بچا ہے اور اسی وقت میں مربوط ردعمل کی ضرورت ہے۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور امپیریل کالج لندن کے ماڈلز اور اعداد و شمار پر مبنی آئی آر سی کی رپورٹ میں پیشگوئی کی گئی کہ عالمی سطح پر 50 کروڑ سے ایک ارب کے درمیان افراد میں وائرس پھیل سکتا ہے۔اس میں یہ بھی کہا گیا کہ تنازعات سے متاثرہ اور غیر مستحکم ممالک کے درجنوں علاقوں میں 30 لاکھ سے زیادہ اموات ہوسکتی ہیں۔آئی آر سی کے سربراہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا کہ ان نمبروں کو ویک اپ کال کے طور پر دیکھنا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ کمزور اور جنگ زدہ ممالک میں اس وبائی بیماری کے تباہ کن اور انتہائی غیر متوازن نتائج سامنے نہیں آئے اس لیے مخیر ممالک فوری طور پر لچکدار فنڈنگ کریں۔ادارے کے مطابق حکومتوں کو انسانی امداد کی راہ میں حائل رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ترقی پذیر دنیا کے بہت سے ممالک میں سرکاری سطح پر انفیکشن کی شرح یا اموات کی تعداد کم بتائی جارہی ہے یقیناً وہاں اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔یمن میں ڈاکٹر کیرولین سیگین بتایا کہ وہاں کووڈ 19 سے صرف ہسپتالوں میں نہیں بلکہ ویسے بھی مر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ہمیں یقین ہے کہ وہاں مقامی ٹرانسمیشن جاری ہے لیکن جانچ کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔دنیا بھر میں کورونا وائرس کے کیسز پر نظر رکھنے والے ویب سائٹ کے اعداد وشمار کے مطابق امریکا بدستور پہلے نمبر پر ہے جہاں ہلاکتوں کی تعداد 56 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ تصدیق شدہ کیسز 10 لاکھ کے قریب تر پہنچ چکے ہیں۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…