اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

مجھے میری زندگی لوٹا دو، لاک ڈائون کیخلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے

datetime 26  اپریل‬‮  2020 |

برلن(این این آئی )جرمنی میں کورونا لاک ڈاؤن کے دوران عائد پابندیوں کے خلاف برلن اور اشٹٹ گارٹ شہر میں ہزاروں افراد نے مظاہرے کیے۔ حکومت نے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ملک میں متعدد پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق وفاقی جرمن دارالحکومت برلن کے علاوہ اشٹٹ گارٹ شہر میں کورونا وائرس کے باعث عائد کردہ پابندیوں کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔

برلن میں ایک ہزار سے زائد افراد اس مظاہرے میں شریک تھے۔ مظاہرین مجھے میری زندگی واپس چاہیے اور میرے آئینی حقوق کا تحفظ کیا جائے جیسے نعرے لگا رہے تھے۔ اس مظاہرے میں شامل افراد نے ایک اخبار بھی تقسیم کیا۔ اس اخبار میں کورونا وائرس کی وجہ سے عائد کردہ حکومتی پابندیوں پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ ایسے دعوے بھی کیے گئے کہ حکومت کورونا وائرس کی آڑ میں خوف پھیلا کر لوگوں پر اپنی گرفت بڑھا رہی ہے۔پولیس کے ترجمان تھیلو کابلٹز نے بتایا کہ حکام نے مظاہرین کو اخبار تقسیم کرنے کی اجازت دی تھی، لیکن مظاہرہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ انہوں نے کہاکہ کورونا وائرس کی وبا کے دنوں میں مرض کا پھیلاؤ روکنے سے متعلق قوانین کے تحت ایسے مظاہروں کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔پولیس نے سڑکیں بلاک کر کے مظاہرین کو ایک جگہ جمع ہونے سے روکا اور میگا فون کی مدد سے انہیں منتشر ہو جانے کی ہدایات کیں۔ احکامات پر عمل نہ کرنے والے سو سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا گیا،برلن میں اس نوعیت کا یہ چوتھا مظاہرہ تھا۔ زیادہ تر مظاہروں کا اہتمام دائیں بازو کے عوامیت پسند گروہوں نے کیا۔ مظاہروں میں سازشی نظریات پھیلانے کے باعث شہرت حاصل کرنے والے کئی نمایاں افراد بھی شریک ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…