اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

ملیریاکی دوائی سے کورونا کا علاج کی مخالفت کرنیوالا امریکی ڈاکٹر برطرف

datetime 23  اپریل‬‮  2020 |

واشنگٹن(این این آئی)وبائی امراض کے لیے ویکسین کی تیاری کرنے والے امریکا کے سرکاری ادارے بائیو میڈیکل ایڈوانس ریسرچ اینڈ ڈویلپمینٹ اتھارٹی(بی اے آر ڈی اے)کے سابق سربراہ ڈاکٹر رک برائٹ نے دعوی کیا ہے کہ انہیں ملیریا کے علاج میں کام آنے والی دوا کلوروکوئن سے کورونا کا علاج کرنے کی مخالفت پر عہدے سے ہٹایا گیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ڈاکٹر رک برائٹ نے دعوی کیا کہ انہوں نے بطور ڈائریکٹر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ملیریا کے علاج میں کام آنے والی دوائی کلوروکوئن سے کورونا کے مریضوں کا علاج کرنے کی مخالفت کی تھی۔ڈاکٹر رک برائٹ کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کلوروکوئن سے کورونا کے مریضوں کا علاج کرنے کی مخالفت پر انہیں بائیو میڈیکل ایڈوانس ریسرچ کے عہدے سے ہٹایا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں اہم ترین عہدے اور ادارے سے ہٹاکر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ)میں سابقہ عہدے سے کم والے عہدے پر تعینات کیا گیا۔ڈاکٹر رک برائٹ کے مطابق وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں ہٹائے جانے اور ان کی تنزلی کیے جانے کے پیچھے ان کی جانب سے کلوروکوئن سے کورونا کا علاج کرنے کے اختلافات سمیت سائنسی تحقیق کے بجائے عام روایتی طریقوں سے وبا کے مریضوں کا علاج کرنے کی مخالفت تھی۔انہوں نے بتایا کہ انہیں یقین ہے کہ انہیں اس لیے عہدے سے ہٹایا گیا کیوں کہ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت اور کانگریس کو کورونا وائرس کا علاج ڈھونڈنے کے لیے سائنسی تحقیق کے کروڑوں ڈالر کی امداد فراہم کرے، نہ کہ حکومت ملیریا کے مریضوں کے علاج میں کام آنے والی دوائی کو استعمال کرنے کی تجویز دے۔انہوں نے دعوی کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کلوروکوئن کو کورونا وائرس کے علاج کے لیے استعمال کرنے کی منظوری دیے جانے کے بعد افرا تفریح کا ماحول دیکھا گیا اور اس بات کے مصدقہ سائنسی ثبوت بھی نہیں کہ مذکورہ دوائی کتنا فائدہ دیتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…