جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

انسانیت کی بہترین مثال، میں ایک اچھی زندگی گزار چکی ہوں، اس لئے مجھ سے زیادہ اس نوجوان کی زندگی قیمتی ہے، بوڑھی خاتون نے اپنا وینٹی لیٹر نوجوان کو دیدیا اور خود اس جہان فانی سے کوچ کر گئی

datetime 3  اپریل‬‮  2020 |

بیلجیم(نیوز ڈیسک) 90 سالہ خاتون نے انسانیت کی مثال قائم کر دی، بوڑھی خاتون نے اپنی جان دے کر نوجوان کی جان بچا لی۔ پوری دنیا کو کرونا وائرس نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور کئی ممالک میں وینٹی لیٹرز کی کمی واقع ہو گئی ہے۔ ایسا ہی کچھ بلیجیم میں بھی ہوا،

ایک نوجوان کو تشویشناک حالت میں ہسپتال لایاگیا جہاں اسے وینٹی لیٹر کی اشد ضرورت تھی لیکن وینٹی لیٹر میسر نہیں تھا جس پر وہاں موجود ایک نوے سالہ خاتون نے نوجوان کو اپنا وینٹی لیٹر دے کر دنیا کی توجہ حاصل کر لی۔ خاتون نے ایسے وقت میں اس نوجوان کو وینٹی لیٹر دیا جب وہ خود بھی کرونا وائرس کی وجہ سے بستر مرگ پر تھی، انہیں سانس لینے میں شدید دقت محسوس ہو رہی تھی ان کا ٹیسٹ بھی پازیٹو آ چکا تھا۔ اس موقع پر ڈاکٹرز نے انہیں وینٹی لیٹرز مہیا کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے لینے سے انکار کر دیا۔ اس موقع پر ضعیف العمر خاتون کے الفاظ تھے کہ میں ایک اچھی زندگی گزار چکی ہوں اور مجھے مصنوعی تنفس کی ضرورت نہیں لہذا یہ وینٹی لیٹر نوجوان کو دیا جائے تاکہ اس کی قیمتی جان بچائی جا سکے۔ ڈاکٹر نے خاتون کی بات پر عمل کرتے ہوئے نوجوان کو وینٹی لیٹر لگا دیا جس کے کچھ ہی لمحوں بعد خاتون اس جہان فانی سے کوچ کر گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…