جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

کرونا وائرس کے بعد دنیا نئی تباہی کے دہانے پر

datetime 31  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میںتہلکہ خیز انکشاف کیا گیا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ متاثر ہونگے انہیں اس ضمن میں 25کھرب ڈالر تک کے معاون پیکج کی ضرورت پڑے گی ۔ ڈان نیوز کے مطابق اقوام متحدہ کی تجارت اور ترقی سے متعلق کانفرنس (یو این سی ٹی اے ڈی) کی گزشتہ روز جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان،

ارجنٹائن اور افریقہ کے صحرائی ممالک کو ’خوفناک امتزاج‘ کے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا، جس میں قرضوں کے اضافے شامل ہیں جس کے ساتھ ساتھ صحت کے شعبے پر تباہ کن اثرات بھی رونما ہوں گے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معیشتیں اعلی سرمایے کے بہاؤ سے ’بری طرح متاثر‘ ہوں گی، اشیا کی گرتی ہوئی قیمتوں اور کرنسی کی قدر میں کمی کی وجہ سے برآمدات کے منافع میں کمی ہوگی، جس کا مجموعی اثر 2008 کے بحران سے کہیں زیادہ خراب ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ’بین الاقوامی اداروں کو اس قسم کی تجاویز کو بہت سنجیدگی سے لینا چاہیے کیونکہ یہ واحد راستہ ہے جس سے ہم پہلے ہی سے ہونے والے نقصان کو روکنے کے لیے دیکھ سکتے ہیں اور جو بدتر ہوں گے‘۔کوزول رائٹ نے تخمینہ لگایا کہ اس سال اور اگلے سال میں کورونا وائرس 20 سے 30 کھرب ڈالر کے مالی خسارے کا سبب بنے گا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ترقی پذیر ممالک کو اس سال معاشی بحران کا سامنا کرنے کے لیے 25 کھرب ڈالر کے امدادی پیکیج کی ضرورت ہوگی۔مطلوبہ اقدامات میں 10 کھرب ڈالر کا لیکویڈیٹی انجیکشن اور ایک کھرب ڈالر کا قرض سے نجات پیکیج شامل ہوگا اور ہنگامی صحت سروسز اور متعلقہ پروگراموں کے لیے حکومت کے کنٹرول میں بالترتیب مزید 50 کروڑ ڈالر کی ضرورت ہوگی۔”ترقی پذیر ممالک کو کووڈ – 19 کا جھٹکا” کے عنوان سے جاری رپورٹ میں دیے گئے اعداد و شمار بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پہلے تخمینے سے ملتے جلتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…