ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

لاک ڈاؤن کے باعث یورپ میں گھریلو تشدد کے خدشات‎

datetime 28  مارچ‬‮  2020 |

لاک ڈاؤن کے باعث یورپ میں گھریلو تشدد کے خدشات‎برسلز(این این آئی )یورپی ممالک میں کرونا وائرس سے بچنے کے لیے حفاظتی تدابیر کے طور پر انگنت خاندان اپنے گھروں میں محصور ہیں جس کے سبب گھریلو تشدد میں اضافے کے خدشات بڑھ گئے ۔فرانس کے خبر رساں ادارے کے مطابق گھریلو تشدد کے خاتمے کے لیے سرگرم تنظیموں نے یورپ کو کرونا وائرس کا مرکز بننے کے بعد تشدد کے

واقعات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کر دیا ۔خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم جرمن تنظیم کے مطابق بہت سے لوگوں کے لیے اْن کا گھر محفوظ جگہ نہیں ہے۔ معاشرتی تنہائی کی وجہ سے تناؤ بڑھ رہا ہے۔ لہذٰا خواتین اور بچوں پر جنسی تشدد کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔برلن سے لے کر پیرس، میڈرڈ، روم اور بریٹیسلاوا میں سرگرم خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے بھی کم و بیش ایسے ہی خدشات ظاہر کیے ہیں۔جرمن فیڈرل ایسوسی ایشن فار ویمن کے مطابق خطرات صرف ان گھروں تک ہی محدود نہیں ہیں، جہاں گھریلو تشدد ایک مسئلہ تھا۔ بلکہ موجودہ صورتِ حال میں ملازمتیں کھو جانے کے خدشات، بیماری کے خوف اور مالی مشکلات سے بھی گھریلو تشدد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔‎فرانس میں کرونا وائرس سے شدید متاثرہ علاقے کی تنظیم پیرینٹس فیڈریشن سے وابستہ فلورنس کلاڈپیئر کا کہنا تھا کہ یقیناً بعض خاندانوں پر دباؤ پڑ رہا ہے۔ ایسے والدین کی کہانیاں سننے کو مل رہی ہیں، جن میں دراڑیں پڑ رہی ہیں۔ان کا مزید کہنا تھاکہ وہ ایسے والدین سے بھی رابطے میں ہیں جن کے رشتے کمزور پڑ رہے ہیں۔ حالانکہ پہلے انہیں اس قسم کی کوئی شکایت نہیں تھی۔چین جہاں اب وائرس کا زور کم پڑ رہا ہے، وہاں خواتین کے حقوق سے وابستہ تنظیم ‘ویپنگ’ کا کہنا ہے کہ وبا کے دوران خواتین پر تشدد کے واقعات میں تین گنا اضافہ ہوا۔یورپی ممالک میں اٹلی کے بعد کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک اسپین میں دو بچوں کی ماں کو اس کے ساتھی نے گزشتہ ہفتے قتل کر دیا تھا۔جرمنی کی ایک تنظیم کا کہنا تھا کہ ذہنی یا جسمانی طور پر تشدد کا نشانہ بننے والے بچوں، نوجوان اور خواتین کا تشدد کرنے والے اپنے ہی ساتھیوں کے

ساتھ مستقل رہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کبھی بھی ان کی بدسلوکی کا شکار ہو سکتی ہیں۔گھریلو تشدد روکنے یا تشدد کا شکار افراد کی مدد کرنے والی تنظیموں کا کہنا تھا کہ انہیں دوہری پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے بہت سے کارکنوں کو گھر سے کام کرنا پڑ رہا ہے جس کے باعث وہ متاثرین تک نہیں پہنچ پاتے۔ اگر پہنچ بھی جائیں تو سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ متاثرہ افراد کو موجودہ حالات میں کہاں منتقل کریں۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…