ہفتہ‬‮ ، 05 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا وائرس ہر سال سردیوں میں حملہ آور! امریکی سائنسدان کے دعوئوں نے پوری دنیا میں ہلچل مچا دی

datetime 26  مارچ‬‮  2020 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکا کے سینئر سائنسدان انتھونی فاکی نے کہاہے کہ عالمی وبا کی شکل اختیار کرنے والا نیا کورونا وائرس ہر سال ٹھنڈ کے موسم میں حملہ آور ہو سکتا ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف انفیکشس ڈیزیز کے ہیڈ ریسرچر انتھونی فاکی نے گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس بات کے قوی امکانات موجود ہیں کہ کورونا وائرس ہر سال سردیوں میں سیزنل وائرس کی طرح حملہ کرے گا۔

کورونا وائرس نے جنوب سے جڑ پکڑنا شروع کی تھی جہاں اس وقت سردیوں کا موسم ہے ۔انتھونی فاکی نے کہا کہ اس وقت اس وائرس کی ویکسین اور موثر علاج جلد سے جلد ایجاد کرنے کی ضرورت ہے، ہم دیکھ رہے ہیں کہ جنوبی افریقا اور دنیا کے جنوب خطوں میں یہ وائرس اب تیزی سے پھوٹ رہا ہے, ہمارے پاس زیادہ کیسز وہاں سے رپورٹ ہو رہے ہیں جن ممالک میں اس وقت ٹھنڈ ہے۔انہوں نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا ہو سکتا ہے کہ یہ وائرس ایک سائیکل کی شکل اختیار کر لے اور اس وائرس کی ایک اور لہر سے ہمیں لڑنا پڑے اس کے لیے ہمارا تیار رہنا بہت لازمی ہے، اس بات کا سارا دار و مدار اس بات پر پر ہے کہ ہم کب تک اس وائرس سے لڑنے کے لیے ویکسین تیار کر لیتے ہیں۔انتھونی فاکی کا بتانا تھا کہ ہم دن رات ویکسین تیار کرنے اور ٹیسٹ کرنے میں جتے ہوئے ہیں تا کہ اس کا علاج جلدی سے جلدی عام عوام کو میسر ہو اور ہم اس کی دوسری لہر کے آنے سے پہلے اس سے لڑنے کے لیے تیار ہوں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے پاس اس وائرس کے لیے دو ویکسین تیار ہیں جو ہم انسانوں پر آزما رہے ہیں، ایک امریکا کے پاس ہے اور دوسری چین کے پاس موجود ہے جبکہ اس کے مکمل طور پر استعمال پر ایک سے ڈیرھ سال لگ سکتا ہے۔

اس کی آزمائش اور انسانوں پر آنے والے اثرات پر مزید تحقیق جاری ہے۔انتھونی فاکی کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ ہم اس میں کامیاب ہو جائیں گے اور اس وبائی مرض کو شکست دیں گے مگر ہمیں کورونا وائرس کے دوسرے حملے کے لیے بھی تیار رہنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ وائرس ٹھنڈ میں زیادہ متحرک اور انسان کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ گرمی میں اس کا حملہ کمزور ہوتا ہے اور اس کی پھیلنے کی صلاحیت بھی کمزور ہوتی ہے۔

اس وائرس سے متعلق یہ حرف آخر نہیں ہے، مزید تحقیق اور اس پر کام جاری ہے ، مختلف ممالک میں اس پر ہونے والی تحقیق کے نتیجے ایک ساتھ پڑھنے اور ان پر غور کرنے کی ضرورت ہے اس کے بعد ہی ہم کسی ایک نکتے پر پہنچ سکیں گے ۔انتھونی فاکی نے کہا کہ سرد موسم میں چھینکنے اور کھانسے کے دوران انسان سے نکلنے والے پانی کے چھوٹے چھوٹے ذرات زیادہ دیرتک ہوا میں رہتے ہیں اور دوسروں کو متاثر کر سکتے ہیں جبکہ سردیوں میں انسانوں کا قوت مدافعت بھی کمزور ہوتا ہے اس لیے زیادہ وائرسز اور انفیکشن حملہ کرتے ہیں۔

امریکی سائنسدان نے مزید کہا کہ اس کے انسان سے دوسرے انسان میں پھیلنے کے مواقع اس لیے بھی زیادہ ہیں کیوں کہ یہ چیزوں کی سطح سے بھے لگ سکتا ہے اور پھیل سکتا ہے ، ایک انسان اس سے متاثر ہوگا تو وہ کئی کو متاثر کر سکتا ہے اس لیے اس سے بچنے کے لیے فی الحال صاف ستھرائی کا خیال کریں، یہ وائرس ایک چکنی تہہ میں بند ہوتا ہے لہذا بار بار صفائی کریں اور ہاتھ دھوئیں تاکہ یہ پھسل جائے اور آپ کے ہاتھوں یا مختلف چیزوں کی سطحوں سے دوسروں میں منتقل نہ ہو سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…