ہفتہ‬‮ ، 07 فروری‬‮ 2026 

کورونا وائرس ہر سال سردیوں میں حملہ آور! امریکی سائنسدان کے دعوئوں نے پوری دنیا میں ہلچل مچا دی

datetime 26  مارچ‬‮  2020 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکا کے سینئر سائنسدان انتھونی فاکی نے کہاہے کہ عالمی وبا کی شکل اختیار کرنے والا نیا کورونا وائرس ہر سال ٹھنڈ کے موسم میں حملہ آور ہو سکتا ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف انفیکشس ڈیزیز کے ہیڈ ریسرچر انتھونی فاکی نے گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس بات کے قوی امکانات موجود ہیں کہ کورونا وائرس ہر سال سردیوں میں سیزنل وائرس کی طرح حملہ کرے گا۔

کورونا وائرس نے جنوب سے جڑ پکڑنا شروع کی تھی جہاں اس وقت سردیوں کا موسم ہے ۔انتھونی فاکی نے کہا کہ اس وقت اس وائرس کی ویکسین اور موثر علاج جلد سے جلد ایجاد کرنے کی ضرورت ہے، ہم دیکھ رہے ہیں کہ جنوبی افریقا اور دنیا کے جنوب خطوں میں یہ وائرس اب تیزی سے پھوٹ رہا ہے, ہمارے پاس زیادہ کیسز وہاں سے رپورٹ ہو رہے ہیں جن ممالک میں اس وقت ٹھنڈ ہے۔انہوں نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا ہو سکتا ہے کہ یہ وائرس ایک سائیکل کی شکل اختیار کر لے اور اس وائرس کی ایک اور لہر سے ہمیں لڑنا پڑے اس کے لیے ہمارا تیار رہنا بہت لازمی ہے، اس بات کا سارا دار و مدار اس بات پر پر ہے کہ ہم کب تک اس وائرس سے لڑنے کے لیے ویکسین تیار کر لیتے ہیں۔انتھونی فاکی کا بتانا تھا کہ ہم دن رات ویکسین تیار کرنے اور ٹیسٹ کرنے میں جتے ہوئے ہیں تا کہ اس کا علاج جلدی سے جلدی عام عوام کو میسر ہو اور ہم اس کی دوسری لہر کے آنے سے پہلے اس سے لڑنے کے لیے تیار ہوں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے پاس اس وائرس کے لیے دو ویکسین تیار ہیں جو ہم انسانوں پر آزما رہے ہیں، ایک امریکا کے پاس ہے اور دوسری چین کے پاس موجود ہے جبکہ اس کے مکمل طور پر استعمال پر ایک سے ڈیرھ سال لگ سکتا ہے۔

اس کی آزمائش اور انسانوں پر آنے والے اثرات پر مزید تحقیق جاری ہے۔انتھونی فاکی کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ ہم اس میں کامیاب ہو جائیں گے اور اس وبائی مرض کو شکست دیں گے مگر ہمیں کورونا وائرس کے دوسرے حملے کے لیے بھی تیار رہنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ وائرس ٹھنڈ میں زیادہ متحرک اور انسان کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ گرمی میں اس کا حملہ کمزور ہوتا ہے اور اس کی پھیلنے کی صلاحیت بھی کمزور ہوتی ہے۔

اس وائرس سے متعلق یہ حرف آخر نہیں ہے، مزید تحقیق اور اس پر کام جاری ہے ، مختلف ممالک میں اس پر ہونے والی تحقیق کے نتیجے ایک ساتھ پڑھنے اور ان پر غور کرنے کی ضرورت ہے اس کے بعد ہی ہم کسی ایک نکتے پر پہنچ سکیں گے ۔انتھونی فاکی نے کہا کہ سرد موسم میں چھینکنے اور کھانسے کے دوران انسان سے نکلنے والے پانی کے چھوٹے چھوٹے ذرات زیادہ دیرتک ہوا میں رہتے ہیں اور دوسروں کو متاثر کر سکتے ہیں جبکہ سردیوں میں انسانوں کا قوت مدافعت بھی کمزور ہوتا ہے اس لیے زیادہ وائرسز اور انفیکشن حملہ کرتے ہیں۔

امریکی سائنسدان نے مزید کہا کہ اس کے انسان سے دوسرے انسان میں پھیلنے کے مواقع اس لیے بھی زیادہ ہیں کیوں کہ یہ چیزوں کی سطح سے بھے لگ سکتا ہے اور پھیل سکتا ہے ، ایک انسان اس سے متاثر ہوگا تو وہ کئی کو متاثر کر سکتا ہے اس لیے اس سے بچنے کے لیے فی الحال صاف ستھرائی کا خیال کریں، یہ وائرس ایک چکنی تہہ میں بند ہوتا ہے لہذا بار بار صفائی کریں اور ہاتھ دھوئیں تاکہ یہ پھسل جائے اور آپ کے ہاتھوں یا مختلف چیزوں کی سطحوں سے دوسروں میں منتقل نہ ہو سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…