جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

مسلمانوں کی دکانوں ،گھروں کو چن چن کرلوٹا، جلایا گیا،کتنے بلوائی دہلی میں فسادات کیلئے لائے گئے؟تحقیقاتی کمیشن کے ہوشربا انکشافات

datetime 8  مارچ‬‮  2020 |

نئی دہلی(این این آئی) بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ہونے والے مسلم کش فسادات کے بعد تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ میں ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں۔بھارتی ٹی وی کے مطابق تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا کہ نئی دہلی میں مسلمانوں پر حملوں کیلئے دو ہزار سے زائد ہندوانتہا پسندوں کو باہرسے لایاگیا جنہیں شیو وہار میں ساتھ ساتھ واقع دو اسکولوں میں ٹھہرایا گیا۔

جاتے ہوئے آگ لگا گئے۔ دونوں اسکولوں میں رات گئے ماسک اور ہیلمٹ پہنے مسلح دہشت گردوں نے قریب گھروں اوردکانوں پر پیٹرول بم بھی پھینکے۔تحقیقاتی کمیشن کا کہنا تھا کہ صرف مسلمانوں کی دکانوں اورگھروں کو چن چن کرلوٹا اور جلایا گیا،122 مکان، 322 دکانیں اور 300 گاڑیوں کو آگ میں پھونک دیا گیا جبکہ 4مسجدیں شہید، 5 گودام، 3 فیکٹریاں اور 2 اسکول جلا دیے گئے۔ ان 3 دنوں میں ہندوؤں کی دکانیں محفوظ رہیں۔ سب کچھ سوچی سجھی سازش تھی۔دوسری جانب بھارتی میڈیاکے مطابق دہلی اقلیتی کمیشن کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دہلی میں تشدد یکطرفہ منصوبہ تھا۔ فسادات کے لئے تمام اونچی عمارتوں پر قبضہ کیا گیا۔ ٹیم جہاں بھی گئی دیکھاکہ مسلمانوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایاگیا۔دہلی حکومت کااعلان شدہ معاوضہ ناکافی ہے۔ جبکہ انتہا پسند ہندوؤں کے ہاتھوں شہیدمساجد،املاک کی تعمیر سے متعلق بی جے پی حکومت کی خاموشی پردہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے مساجد کی تعمیر کے لیے 5 لاکھ روپے جاری کردیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…