جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

کوروناوائرس کے پھیلائو میں موسم اور درجہ حرارت کی کمی بیشی کا گہرا تعلق ہے‘چینی محققہ کے حیر ت انگیز انکشافات

datetime 18  فروری‬‮  2020 |

بیجنگ (این این آئی)چین کی ایک خاتون سائنسدان نے کہا ہے کہ ملک میں قیامت برپا کرنے والے کورونا وائرس کا درجہ حرارت کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ ہی یہ وائرس کم زور پڑنا شروع ہوجائے گا۔چینی میڈیکل ایسوسی ایشن وابستہ محققہ تانگ چن نے بتایا کہ کرونا وائرس اور اس کے نتیجے میں پھیلنے والی بیماری کا موسمی تغیرات کیساتھ تعلق ہے۔

درجہ حرارت میں کمی کرونا وائرس میں اضافے جبکہ درجہ حرارت میں اضافہ اسے متاثر کرے گا۔تانگ چن نے مزید کہا کہ جب بھی درجہ حرارت بڑھتا ہے تو وائرس اپنی طاقت کھو دیتا ہے ، اور درجہ حرارت 56 ڈگری سینٹی گریڈ بہترین ہے جس میں کورونا کی سرگرمی مضبوطی اور تیزی سے کم ہوتی ہے۔دیگر محققین بھی یہ امکان ظاہر کررہے ہیں کہ وائرس سے ہونے والی بیماری کا پھیلاؤ سال کے گرم ترین مہینوں کے قریب آنے کے ساتھ ہی کم ہوجائے گا۔ چینی حکام نے بتایا کہ ہے کہ کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار آٹھ سو ہو گئی جبکہ کم از کم 70،500 افراد ، جن میں چین کی اکثریت ہے متاثر ہوئے تھے۔چین کے باہر ، فلپائن ، ہانگ کانگ ، جاپان ، فرانس اور تائیوان میں پانچ اموات ریکارڈ کی گئیں اور متاثرین کی تعداد لگ بھگ تیس ممالک اور خطوں میں 800 کے قریب بتائی جاتی ہے۔ادھر عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹائڈروس اذانم گیبریوس نے پیر کی شام صحافیوں کو بتایا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نیا ظہور پذیر کورونا وائرس دوسرے کورونا وائرس خاص طور پر سارس اور میرس کی طرح مہلک نہیں ہے۔چین میں 44000 کیسوں پر محیط وبائی امراض کے مطالعہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 80 فیصد سے زیادہ مریض ٹھیک ہو گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…