جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

کرونا وائرس کی ویکسین کتنے عرصے میں تیا ر ہو کر مارکیٹ میں آئے گی ؟ڈبلیو ایچ او نےبڑا اعلان کردیا

datetime 12  فروری‬‮  2020 |

جنیوا (این این آئی) ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈ روز کا کہنا ہے کہ اگلے 18 ماہ کے اندر کرونا وائرس کی ویکسین تیار کرلی جائے گی، فی الحال دستیاب وسائل کے ذریعے اس کا علاج ممکن بنایا جارہا ہے۔کرونا وائرس کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے ڈاکٹر ٹیڈ روز نے بتایا کہ کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے روڈ میپ بنانا ضروری ہے۔

ہمارے پاس ایسی بہت سی سہولیات موجود ہیں جن کے ذریعے انفیکشن کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے، ہم نے دنیا بھر کے ممالک کو یہ ادویات بھیجی ہیں تاکہ وہ اس بیماری کا سد باب کرسکیں۔انہوں نے بتایا کہ کرونا وائرس کے پھیلائوکو روکنے کیلئے فوری طور پر 675 ملین ڈالرز کی ضرورت ہے، بعض ممالک نے اپنا حصہ ڈال دیا ہے جس کی ہم تحسین کرتے ہیں اور جو ممالک حصہ ملانے سے رہ گئے ہیں انہیں کہتے ہیں کہ وہ بھی اپنی ذمہ داری پوری کریں۔یہ کرونا وائرس کا پھیلائو روکنے کا بہترین وقت ہے، اگر ہم ابھی سے بہتر سرمایہ کاری کریں گے تو امکان ہے کہ ہم کرونا وائرس کا پھیلائو روکنے میں کامیاب ہوجائیں گے، اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو ہمیں اس کی اتنی بڑی قیمت چکانا پڑے گی جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ڈاکٹر ٹیڈ روز نے بتایا کہ ڈبلیو ایچ او کے زیر اہتمام دنیا بھر کے 400 سائنسدانوں کا اجلاس ہونے جارہا ہے جس میں کرونا وائرس کے حوالے سے تجاویز پیش کی جائیں گی۔ امید ہے کہ اگلے 18 ماہ کے اندر کرونا وائرس کے روک تھام کیلئے ویکسین مارکیٹ میں دستیاب ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…