ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

القدس کو سونے کی پلیٹ میں سجا کر اسرائیل کو پیش کرنے والو کان کھول کر سن لو ۔۔۔ ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے اپنا فرض ادا کر دیا ،امریکا کو دوٹوک پیغام جاری کردیا

datetime 9  فروری‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کوالالمپور(این این آئی)ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اسرائیل کے ساتھ مل کر تیار کردہ نام نہاد مشرق وسطی امن منصوبے کو مسترد کرتے ہیں۔بین الاقوامی پارلیمانی القدس پلیٹ فارم کی تیسری کانفرس ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں شروع ہو گئی ہے۔ پہلی دو ترکی میں ہونے والی ان کانفرسوں کے سلسلے میں امسال دنیا بھر سے

500 سیاستدان شرکت کر رہے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرنے والے ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اسرائیل کے ہمراہتیار کردہ نام نہاد مشرق وسطی امن منصوبہ خود مختار ریاستِ فلسطین کے قیام میں کسی قسم کی کوئی معاونت فراہم نہیں کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ملائیشیا تجویز کو ناقابلِ قبول اور غیر منصفانہ سمجھتا ہے۔ موجودہ حالات کو مزید بگاڑنے پر مبنی مذکورہ منصوبہ مقدس شہر القدس کو اسرائیل کو طلائی پلیٹ میں پیش کرنے کے مترادف ہے۔‎منصوبے کے خطے میں مزید کشیدگی اور جھڑپوں کا ماحول پیدا کرنے کا دفاع کرنے والے مہاتیر محمد نے مزید کہا تھا کہ یہ منصوبہ اربوں انسانوں کو اشتعال دلائے گا، اسے یکطرفہ طور پر وضع کیا گیا ہے اور دیگر فریق فلسطین کی رائے تک نہیں لی گئی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین کو غیر اہم بنانے کی اجازت نہ دینا اور اسے پس پردہ ڈالنے کی کوششوں کو ناکام بنانا عالمی برادری کا فریضہ ہے۔ ملائیشیا ہمیشہ فلسطینیوں کی حمایت کو جاری رکھے گا۔ملائیشین وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین کے حل کے حوالے سے عالمی کوششیں ناکامی سے دوچار ہوئی ہیں اور ان پر صحیح طریقے سے عمل درآمد نہیں کیا گیا ، عالمی رائے عامل کو مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے مزید کوششیں صرف کرنی چاہییں۔ملائیشین وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق بیان میرے ضمیر کی آواز ہے، نہ ہی بیان سے پیچھے ہٹوں گا اور نہ واپس لوں گیا۔مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ ہم اپنے ضمیر کے مطابق بات کرتے ہیں، ہم نہ اپنا بیان بدلتے ہیں اور نہ ہی واپس لیتے ہیں، مقبوضہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی حمایت حاصل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ماننا ہے کہ صرف پاکستان اور بھارت ہی کو نہیں بلکہ امریکا سمیت تمام ممالک کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کو تسلیم کرنا چاہیے، ورنہ اقوام متحدہ کا کیا فائدہ ہوگا۔ملائیشین وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کی طرف سے اب تک کسی اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا، تجارت دوطرفہ ہوتی ہے، کوئی ایسا قدم اٹھانا غلط ہے جو تجارتی جنگ کی طرف لے جائے۔‎

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…