جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

روسی صدر کے مخالف مسلمان بلاگر کا سر دھڑ سے الگ کرکے اسے قتل کر دیا گیا، عمران علی نے اپنی جان بچانے کیلئے فرانس میں پناہ لی ہوئی تھی‎

datetime 9  فروری‬‮  2020 |

پیرس(مانیٹرنگ ڈیسک) مسلمان بلاگر کی فرانس کے ہوٹل میں سرکٹی لاش برآمد ۔ تفصیلات کے مطابق روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کے مخالف مسلمان بلاگر عمران علی کی میت فرانس کے ہوٹل سے برآمد کر لی گئی ، گردن کو تیز دھار آلے سے کاٹ کر انہیں قتل کیا گیا ۔ بتایا گیا ہے کہ مسلمان بلاگر روسی صدر پیوٹن کیخلاف سخت ترین مخالفوں میں سے تھا وہ اپنی جان بچانے کیلئے یورپ میں پناہ لیے ہوئے تھا تاہم اسے فرانسیسی ہوٹل میں تیز دھار آلے کے استعمال اس کا گلہ کاٹ کر قتل کر دیا گیا ۔ فرانسیسی پولیس نے

امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک سیاسی قتل ہو سکتا ہے ، جبکہ مقتول ہونے والے بلاگر کا ساتھی موت کے واقعے کے بعد منظر عام سے بالکل غائب ہو گیا جس کو تلاش کیا جارہا ہے ۔ ہوٹل انتظامیہ نے بتایا ہے کہ جب ویٹر مہمان گیسٹ سے کھانا اور ضروریات کی چیزوں سے متعلق پوچھنے گیا تو عمران علی کی لاش خون میں لت پت پڑی تھی جبکہ وہاں ایک تیز دھار آلہ بھی موجود تھا ۔ فرانسیسی پولیس کے مطابق معاملہ کی تحقیق کررہے ہیں ضرورت پڑنے پر یہ روسی حکومت سے بھی رابطہ کیا جارہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…