جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

کوئی باضمیرانسان ٹرمپ کے منصوبے کو قبول نہیں کر سکتا مہاتیرمحمد کے بیٹے نے امریکی صدر کو کھری کھری سنا دیں

datetime 4  فروری‬‮  2020 |

کوالالمپور(این این آئی)ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کے صاحب زادے اور ملائیشیا، القدس کونسل کے بورڈ ڈائریکٹر کے چیئرمین داتو مخزر بن مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام نہاد مشرق وسطیٰ منصوبے کو کوئی ذی شعور، عقل مند اور زندہ ضمیر انسان قبول نہیں کرسکتا۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بن مہاتیر محمد نے کالالمپور میں ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ سنچری ڈیل

درحقیقت صدی کا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ صدی کی ڈیل امریکی عوام کی ٹرمپ کے مواخذے سے توجہ ہٹانا اور دوسری بار امریکی صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کا ایک حیلہ ہے۔ مگر اسے کوئی بھی انسان معقول قرار نہیں دے سکتا۔خیال رہے کہ مخرز بن مہاتیر ملائیشیا کے شمالی صوبے قدح کے سینیر وزیر  اور حکمراں جماعت’برساتو’ کے نائب صدر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی قوم پرایسا کوئی بھی حل مسلط نہیں کیا جاسکتا جس میں فلسطینی قوم کے بنیادی ارکان بالخصوص فلسطینی اتھارٹی، تحریک فتح اور حماس کو شامل نہ کیا گیا ہو۔ان کا مزید کہنا تھا کہ تنازع فلسطین کے حوالے سے اقوام متحدہ کی طرف سے بہت سی مثبت تجاویز دی گئی تھیں جنہیں امریکا اور اسرائیل نے مسترد کر دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…