جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

تبدیلی جلدی نہیں آتی، اس میں وقت لگے گا،شاید 2 سال یا۔۔۔!!! ملائیشین وزیر اعظم مہاتیر محمد کی باتیں سب کی توجہ کامرکز بن گئیں

datetime 19  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد (اے پی پی)ملائشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کہا کہ تبدیلی جلدی نہیں آتی، اس میں وقت لگے گا،شاید دو سال یا اس سے بھی زیادہ۔لیکن ہمیں یقین ہے تبدیلی ضرور آئیگی اور کئی پہلووں سے تبدیلی کا آغاز ہوچکا ہے۔2018ء میں حکومت سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے ملائشین ہم منصب مہاتیر محمد کو اپنا رول ماڈل قرار دیا تھا۔

یہ اس لئے نہیں دونوں رہنمائوں کی علاقائی و بین الاقوامی معاملات کے بارے میں یکساں خیالات ہیں بلکہ بدعنوانی ہو،کمزور معیشت،کرنسی کی گرتی ہوئی قدر یا انتہائی غربت ہو،دونوں حکومتوں کو زیادہ تر چیلنجز ورثے میں ملے۔ چند روز قبل مہاتیر محمد نے ”پاکتن ہڑپن“کے عنوان سے بلاگ تحریر کیا۔جس میں انہوں نے ان حالات کی عکاسی کی ہے جب پاکتن ہڑپن کولیشن نے درپیش چیلنجوں کا سامنا کیا تھا اور حکومت تشکیل کی تھی۔ حیرت انگیز طور پر ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد کی جانب سے کھینچے گئے ملکی معاشی ،گورننس اور سیکیورٹی کیساتھ ساتھ صنعتی تصویر اور وزیراعظم عمران خان کو ورثے میں ملی حکومت میں انتہائی مماثلت پائی جاتی ہے ۔اپنے ایک بلاگ میں انہوں نے لکھا کہ جب بھی کوئی نئی سیاسی جماعت برسراقتدار آکر حکومت سنبھال لیتی ہے تو یہ ایک معجزہ ہی ہوگاکہ وہ راتوں رات اپنے تمام منصوبوں اور وعدوں کو عملی جامہ پہنا دے۔انہوں نے اس دن کا تذکرہ کیا جب دوسر ے بڑے اتحاد پاکتن ہڑپن( بی این) نے حکومت قائم کی، اسے متعدد چینلجوں کا سامنا کرنا پڑا اور کیسے حکومت نے ان چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کےلئے اقدامات کئے۔ماضی کی بدعنوان حکومت نے گزشتہ کئی دہائیوں سے قوم کو لوٹا۔

اس کی دولت ضائع کی،اس کے انتظامی اداروں کو برباد اور قوانین کو پامال کیا ۔ حد سے زیادہ قرضے لئے ، ملک کو دیوالیہ پن کے دہانے پر پہنچا دیا۔عوام کو کسی بھی کام کیلئے رشوت دینے پر مجبور کردیا اور بالعموم عوام کے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا۔انہوں نے لکھا کہ ہر حکومت کو ہر وقت ہر کسی کی منظوری نہیں مل سکتی ۔اہم بات یہ ہے کہ یہ کمزور کابینہ ابھی بھی فعال ہے۔ لیکن ایسے بھی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ یہ حکومت بے سمت ہے،کیا ایسا ہی ہے؟

آئیے ایک جائزہ لیتے ہیں ۔ ایک کھرب رنگٹ سےزائد قرضوں کے باوجود، حکومت ملک کی قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔ قرض دہندگان حکومت پر مقدمہ نہیں کر رہے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ بعض تو کم شرح سود پر مزید قرضے دینے کے خواہشمند بھی ہیں۔حکومت کی کوششوں سے قرضوں میں کمی آئی ہے۔سیاسی لحاظ سے ملک مستحکم ہے۔ یقیناً حکمران اتحاد کے بعض ممبران میں بے چینی ہے لیکن یہ عام بات ہے۔

شاید ہمارے بدخواہوں کو نہیں لیکن ہمیں علم ہے کہ ہم کس سمت جارہے ہیں۔منصوبے وضع کرنے میں ہفتہ یا زیادہ کا عرصہ لگتا ہے لیکن اس پر عملدرآمد کیلئے کم سے کم دو سال یا زیادہ عرصہ درکار ہوتا ہے۔دیکھنے والوں کویہی لگتا ہے کہ کچھ نہیں ہورہا لیکن بات یہ ہے کہ سرسوں ہتھیلی میں نہیں جمتی۔جب ملائشیاءزرعی بنیاد پر قائم معیشت سے صنعتی معیشت پر منتقل ہو رہا تھا تو اس میں بھی زیادہ عرصہ لگا۔لیکن ہم سے زیادہ لوگوں کو یاد نہیں اور نوجوان نسل نے تبدیلی کا یہ دور کبھی نہیں دیکھا۔آج کل زرعی ملائشیاءکا تصور کرنا بھی محال ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…