جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

دبئی میں زیر تعمیر دنیا کا سب سے بڑا ہوٹل دی سیل ٹاور عوام کیلئے کب کھولا جائے گا، ہوٹل انتظامیہ نے اعلان کر دیا

datetime 15  جنوری‬‮  2020 |

دبئی (این این آئی)دبئی کے مرینہ ڈسٹرکٹ میں ہوائی اڈے کے قریب دی سیل ٹاور کے نام سے دْنیا کا سب سے اْونچا ہوٹل زیر تعمیر ہے۔اس ہوٹل کی اْونچائی 360.4 میٹر ہو گی اور اس میں 1042 کمرے ہوں گے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ہوٹل تعمیر کرنے والی کمپنی دی فرسٹ گروپ نے بتایاکہ ہوٹل کی تعمیر 2022 کے آخر تک مکمل ہو جائے گی اور ہوٹل کو 2022کے آخر یا 2023کے ابتداء میں عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔اس نئے ہوٹل کے فن تعمیر اور ڈیزائن کو عالمی سطح پر بھی پذیرائی مل چکی ہے اور یہ اب تک تین ایوارڈ

بھی اپنے نام کر چکا ہے۔ہوٹل میں دبئی کے نظاروں کے لیے خصوصی مقام بھی تعمیر کیا جا رہا ہے۔فرسٹ گروپ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ صارفین کو ہوٹل سے دبئی کی بلندو بالا عمارتوں اور سمندر کے خوبصورت نظاروں سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملے گا۔ہوٹل کی تعمیر 2016 میں شروع ہوئی تھی اور اس ہوٹل کی تعمیر سے دبئی میں بلند و بالا ہوٹلز کی فہرست میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ہوٹل انتظامیہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ تعمیر مکمل ہونے پر وہ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ سے سرٹیفکیٹ کے لیے رجوع کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…