بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ کی عائد کردہ پابندیوںکے تباہ  کن اثرات کا اعتراف کرلیا کتنے سوارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے؟ ایرانی صدر نے  بڑا اعلان کر دیا

datetime 1  جنوری‬‮  2020 |

تہران( آن لائن )ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکا کی طرف سے عاید کردہ اقتصادی پابندیوں کے تباہ کن اثرات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی پابندیوں اور پچھلے دو سالوں میں تیل اور ہارڈ کرنسی کی کمی کے باعث تہران کو 200 ارب ڈالر کا نقصان ہوا  روحانی نے

ایک تقریر میں کہا کہ اس رقم میں تیل کی فروخت کے ساتھ ساتھ بیرونی کریڈٹ میں 100 ارب ڈالرکی رقم بھی شامل ہے۔روحانی نے پابندیوں کے اثرات اور انتہائی امریکی دبا کی پالیسی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ “فی الحال ہم بدترین قسم کی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ خوراک اور پانی زندگی کی بنیادی ضروریات ہیں اور کے بغیر کوئی زندہ نہیں رہ سکتا چاہے وہ کتنا ہی مضبوط اور طاقتور کیوں نہ ہو”۔ ایرانی صدر نے اپنے انتخابی وعدوں کو پورا کرنے میں اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے اس کا یہ جواز پیش کیا تھا کہ جب میں نے عوام سے وعدے کیے تھے اس وقت امن تھا اور آج ملک حالت جنگ میں ہے۔صدر روحانی کا کہنا تھا کہ جو لوگ حکومت پر تنقید کرتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ہمارے موجودہ حالات 3 سال پہلے کی طرح نہیں ہیں۔ ہم اس وقت لڑائی کی حالت میں ہیں۔روحانی نے ٹوکیو کے اپنے حالیہ دورے کے دوران تہران کی واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادگی کا اظہار کیا تھا لیکن انہوں نے پابندیاں ختم کرنے پر اصرار کیا جبکہ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ کسی بھی مذاکرات کی مخالفت کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…