جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

نوجوانوں کو ورغلا کربطورجنگجو بھرتی کرنے کا انکشاف، یہ کام کس ملک میں ہونے لگا؟ جانئے

datetime 28  دسمبر‬‮  2019 |

بیروت (این این آئی) حزب اللہ ملیشیا جنوبی شام میں اپنے مقاصد کے حصول لیے نوجوانوں کو ورغلا کر اور بھلا پھسلا کر بھرتی کررہی ہے۔ نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے مذہبی اور فرقہ واریت کا کارڈ استعمال کیاجا رہا ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ آبزر ویٹری فار ہیومن رائٹس نے بتایاکہ جنوبی شام میں حزب اللہ اپنا اثرو رسوخ استعمال کرنے کے لیے دن رات سرگرم ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق البعث شہر اور خان ارنبہ کے علاقے میں حزب اللہ شیعہ ازم کے فروغ کے ذریعے وہاں کے نوجوانوں اور مردوں کو اپنی جانب مائل کررہی ہے۔ حزب اللہ میں مقامی نوجوانوں کی شمولیت کی ایک وجہ شامی فوج کی طرف سے لازمی بھرتی یا فوج میں جبری بھرتی کی کوششوں کا مقابلہ کرنا بھی قرار دیا جاتا ہے کیونکہ حزب اللہ ملیشیا میں شامل ہونے والے افراد کو شامی فوج جبری بھرتی پرمجبور نہیں کرتی۔ اس کے علاوہ بے روزگاری، معاشی مسائل اور دیگر وجوہات بھی حزب اللہ کو مقامی مردوں کواپنی صفوں میں شامل کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔حزب اللہ ملیشیا نہ صرف جنوبی شام میں بھرتی کے لیے سرگرم ہے بلکہ القنیطرہ کے علاقوں میں بھی وہ مختلف حیلوں اور حربوں کے ذریعے اپنا اثرو نفوذ بڑھا رہی ہے۔ حزب اللہ شامی فوج،اسٹیلپشمنٹ کے ساتھ گہرے تعلقات اور سرکاری محکموں میں اثرو رسوخ ذریعے القنیطرہ پراپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے کوشاں ہے۔اس وقت خان ارنبہ اور البعث شہروں میں حزب اللہ کے جنگجوؤں کے ہیڈ کواٹر ہیں اور وہ القنیطرہ میں بھی پھیلے ہوئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…