جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

متنازع قانون کے خلاف احتجاج، کسے بھارت چھوڑنے کا حکم دیدیا گیا

datetime 28  دسمبر‬‮  2019 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارت کی حکومت نے متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج میں شرکت کرنے والے جرمن طالب علم کے بعد ناروے سے تعلق رکھنے والی 71 سالہ بزرگ خاتون کو بھی ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق 71 سالہ میٹ جوہانسن کا کہنا تھا کہ

پولیس نے انہیں زبانی طور پر اجازت دی تھی کہ متنازع شہریت قانون کے خلاف وہ پرامن احتجاج میں شرکت کرسکتی ہیں جو بھارت کے مسلمانوں کے خلاف بنایا گیا ہے۔غیرملکی خاتون کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز (جمعرات) کو بھارتی امیگریشن کے عہدیدار پوچھ گچھ کے لیے میرے پاس ہوٹل میں ا?ئے اور مجھے ذہنی طور پر تشدد کیا۔بھارتی عہدیداروں کی جانب سے تفتیش کے حوالے سے ان کا کہناتھا کہ آج پھر وہی لوگ میرے ہوٹل میں نظر آئے اور مجھے کہا کہ آپ ملک چھوڑ دیں یا قانونی کارروائی کریں گے اور ڈی پورٹ کردیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ فوری طور پر بھارت سے دبئی جائیں گی اور وہاں سے سویڈن چلی جائیں گی۔نارویجن شہری نے 23 دسمبر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر ایک پوسٹ کے ساتھ تصاویر جاری کی تھیں جس میں بھارت کی جنوبی ریاست کیرالا میں ایک احتجاجی مظاہرے میں شرکت کے حوالے سے تفصیل سے لکھا تھا۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…