جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

مقبوضہ کشمیر میں 128 روز بعد ایس ایم ایس سروس جزوی بحال شہری موبائل فون پر میسج صرف وصول کر سکیں گے لیکن کیا نہیں کر سکتے ؟ افسوسناک صورتحال

datetime 11  دسمبر‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سرینگر( آن لائن ) مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارت نے غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر رکھا ہے اور وادی میں 4 ماہ سے زائد عرصے کے بعد موبائل فون پر ایس ایم ایس جزوی طور پر بحال کر دی گئی ہے۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے

مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ ہے جس کے باعث مواصلاتی نظام، تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز مکمل طور پر بند ہیں۔فرانسیسی خبر ایجنسی کے مطابق  مقبوضہ کشمیر میں موبائل انٹرنیٹ سروس اب بھی معطل ہے جب کہ  چار ماہ بعد صرف اِنکمنگ ایس ایم ایس سروس بحال کر دی گئی ہے۔بھارتی حکام کے مطابق  مقبوضہ کشمیر میں شہری موبائل فون پر میسج وصول کر سکیں گے مگر اپنے موبائل فون سے اب بھی ایس ایم ایس نہیں بھیج سکیں گے۔یاد رہے کہ 14 اکتوبر کو بھی مقبوضہ کشمیر میں 72 روز سے بند موبائل فون سروس جزوی طور پر بحال کر دی گئی تھی جسے کچھ گھنٹوں بعد ہی واپس بند کر دیا گیا تھا جب کہ وادی میں انٹرنیٹ سروس بدستور  بند ہے۔بھارت نے 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے قبل ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو وفاق کے زیرِ انتظام دو حصوں یعنی (UNION TERRITORIES) میں تقسیم کردیا جس کے تحت پہلا حصہ لداخ جبکہ دوسرا جموں اور کشمیر پر مشتمل ہوگا۔بھارت نے یہ دونوں بل لوک سبھا سے بھی بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرالیے۔بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 مقبوضہ کشمیر میں خصوصی اختیارات سے متعلق ہے۔آرٹیکل 370 ریاست مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے، اسے برقرار رکھنے، اپنا پرچم رکھنے اور دفاع، خارجہ و مواصلات کے علاوہ تمام معاملات میں آزادی دیتا ہے۔بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے۔بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت کسی بھی دوسری ریاست کا شہری مقبوضہ کشمیر کا شہری نہیں بن سکتا اور نہ ہی وادی میں جگہ خرید سکتا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…