جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

فوری اقدامات کریں ورنہ موسمیاتی تباہی کا سامنا کریں، اقوام متحدہ نے خبردار کردیا

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

پیرس(آن لائن) اقوام متحدہ نے گرین ہاؤس گیسز سے متعلق سالانہ جائزے میں کہا ہے کہ اگر فوری طور پر کوشش نہ کی گئی تو دنیا موسمیاتی تبدیلی میں ہونے والی تباہی کو دور کرنے کا موقع کھودے گی۔فرانسیسی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام نے کہا کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود کرنے کے لیے گرین ہاؤس گیسز کا عالمی اخراج 2023 تک

ہرسال 7.6 فیصد کم ہونا ضروری ہے۔حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح پر گرین ہاؤسز گیسز کا اخراج گزشتہ ایک دہائی سے سالانہ 1.5 فیصد اوسط اضافہ ہوا جس کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق 195 ممالک کی جانب سے پیرس معاہدے پر دستخط کے 3 سال بعد 2018 میں کاربن ڈائی آکسائیڈ یا مساوی گرین ہاؤس گیسز کا اخراج 55.3 بلین ٹنز کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔ورلڈ میٹیریولوجیکل آرگنائزیشن نے کہا کہ گرین ہاؤس گیسز کا اخراج 2018 میں سب سے زیادہ بلند ترین سطح پر پہنچا تھا۔ پیرس معاہدے میں ممالک نے درجہ حرارت میں اضافے کو 2 ڈگری سینٹی گریڈ اور ممکن ہو تو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک برقرار رکھنے کا عزم کیا تھا۔اس معاہدے کے تحت ممالک نے گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں کمی کی ضرورت اور کاربن کی کم سطح پر مبنی دنیا کی جانب گامزن ہونے پر اتفاق کیا تھا۔تاہم اب اقوام متحدہ نے انکشاف کیا کہ پیرس معاہدے کو حالیہ طور پر مدنظر رکھ کر بھی دنیا درجہ حرارت میں 3.2 سینٹی گریڈ اضافے کی جانب گامزن ہے جس سے سائنسدانوں کو معاشرے کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر اینگر اینڈرس نے کہا کہ ‘ ہم گرین ہاؤسز گیسز کے اخراج کے خاتمے میں ناکام ہورہے ہیں’۔انہوں نے کہا کہ ‘ اگر اب ہم فوری اقدام نہیں اٹھاتے اور عالمی اخراج میں نمایاں کمی نہیں لاتے تو ہم 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ کا ہدف ضائع

کردیں گے’۔ایمیشنز گیپ نے اپنی رپورٹ میں حکومت کی جانب سے عدم کارروائی کی قیمت کی تفصیل بھی بتائی ہے۔اینگر اینڈرس نے کہا کہ ‘ 10 سال سے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقدامات میں تاخیر ہمیں وہاں لے آئی جہاں ہم آج موجود ہیں’۔رپورٹ میں گرین ہاؤس گیسز کے زیادہ اخراج کرنے والے ممالک کو اپنے معیشتوں کو پیرس معاہدے کے اہداف کے مطابق خصوصی مواقع کی نشاندہی بھی کی گئی۔اس میں ممالک کے لیے کوئلے کو مکمل طور پرختم کرنے، آئل اور گیس میں نمایاں کمی اور قابل تجدید

توانائی میں اضافہ ہے۔رپورٹ کے مصنفین میں شامل جان کرسٹینسن نے کہا کہ ‘ اضافی تبدیلیاں آسانی سے نہیں ہوگی’۔آف کلائمٹ ایکشن نیٹ (سی اے این) یورپ کے ڈائریکٹر وینڈل ٹرائیو نے کہا کہ ‘ ہم ان 10 سالوں میں معاشروں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور 2020 کو موسمیاتی جنگ میں تاریخی موڑ بننے کی ضرورت ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘ ہماری امید سڑکوں پر نکلنے والے ان لاکھوں افراد سے ہے جو سیاستدانوں کو سائنسدانوں کی تجاویز کے مطابق عمل کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں’۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…