بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کی ڈھٹائی، مقبوضہ کشمیر میں صورتحال کو نارمل قرار دے دیا

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

نئی دہلی(این این آئی) بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں قابض فوج کے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ایک بار پھر انتہائی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وادی کی صورتحال کو نارمل قرار دے دیا۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے راجیہ سبھا میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر رپورٹ پیش کرتے ہوئے وادی کی صورتحال کو نارمل قرار دیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق

امیت شاہ نے راجیہ سبھا میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں صورتحال معمول کے مطابق بحال ہوچکی ہے اور وادی میں اس وقت کوئی کرفیو نہیں۔بھارتی وزیر داخلہ نے مقبوضہ وادی میں 3 ماہ سے انٹرنیٹ سروس کی بندش کا بھی دفاع کیا اور کہا کہ انٹرنیٹ کی بندش کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ وہاں کی مقامی انتظامیہ کرے گی اور وہ جب بہتر سمجھیں گے وادی میں انٹرنیٹ سروس بحال کردی جائے گی۔امیت شاہ کا کہنا تھا کہ جہاں تک انٹرنیٹ سروس سے متعلق تشویش ہے یہ فیصلہ جموں و کشمیر کی مقامی انتظامیہ کی طرف سے ہی لیا جاسکتا ہے۔بھارتی وزیر داخلہ نے الزام لگایا کہ وادی میں پاکستانی سرگرمیاں بھی ہیں اس لیے سیکیورٹی کو ذہن میں رکھیں، اس لیے جب بھی مقامی انتظامیہ کو صورتحال بہتر لگے وہ اس پر کوئی فیصلہ کریں گے۔امیت شاہ نے یہ بھی دعوی کیا کہ مقبوضہ کشمیر کے کسی بھی علاقے میں کوئی کرفیو نہیں ہے، ادویات مناسب طور پر دستیاب ہیں جبکہ ادویات کی فراہمی کے لیے موبائل میڈیسن سروس بھی شروع کردی گئی ہے لہذا وادی میں کوئی مسئلہ نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…