بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

سیف الاسلام قذافی کے حوالے سے عالمی عدالت انصاف اور لیبیا میں قانونی تنازع

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

دی ہیگ(این این آئی)عالمی عدالت انصاف’آئی سی سی’ کو مطلوب لیبیا کے سابق مرد آہن مقتول معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کے حوالے سے عالمی عدالت اور لیبی حکومت کے درمیان قانونی تنازع پیدا ہوگیا ہے۔لیبیا کے عوامی حلقوں اور انسانی حقوق کے گروپوں کی طرف سے یہ توقع کی جا رہی ہے ،ہیگ میں قائم عالمی فوج داری عدالت جلد ہی سیف الاسلام القذافی کے خلاف اپنا فیصلہ صادر کرے گی۔

سیف الاسلام قذافی پراپنے والد کے دور حکومت میں ملک میں پھوٹنے والی بغاوت کچلنے کے دوران انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی فوج داری عدالت نے سیف الاسلام کو اشتہاری قرار دے رکھا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق لیبیا کی وزارت انصاف نے کہا کہ طرابلس سیف الاسلام قذافی کو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے حوالے کرنے اور لیبیا سے باہر ان پر مقدمہ چلانے کی اجازت نہیں دے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ لیبیا کی عدلیہ خود بھی آزاد ہے اور کسی بھی شہری کے خلاف قانونی کارروائی اس کے دائرہ اختیار میں ہے۔سیف الاسلام کے وکلاء دفاع کی طرف سے عالمی عدالت انصاف میں ایک اپیل دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سیف الاسلام کو اشتہاری قرار دینے سے متعلق فیصلہ واپس لیا جائے اور عالمی عدالت سیف الاسلام کی حوالگی کا مطالبہ واپس لے۔ عالمی عدالت اس درخواست پرغور کررہی ہے جب کہ دوسری طرف عدالت نے سیف الاسلام کے خلاف اپنے پہلے سے جاری مقدمہ کے حتمی فیصلے کی تیاری بھی مکمل کرلی ہے۔ یہ فیصلہ عن قریب سنایا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…