اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

شام میں ترک فوجی کارروائی پر عالمی برادری چلا اٹھی،شدید ردعمل

datetime 10  اکتوبر‬‮  2019 |

پیرس/لندن/ برلن/واشنگٹن (این این آئی)شام میں ترکی کی جاری فوجی کارروائی پر عالمی برادری کی طرف سے شدید ردعمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔ فرانس، برطانیہ، جرمنی، اٹلی، بیلجیئم، پولینڈ اور ہالینڈ نے شمال مشرقی شام میں کرد جنگجوؤں کے خلاف ترک فوجی آپریشن کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ہالینڈ کے وزیر خارجہ سٹیف بلوک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انقرہ نے شام میں آپریشن شروع کرنے کے بعد ترکی کے سفیر کو

طلب کرکے ان سے سخت احتجاج کیا ہے۔مسٹر سٹیف بلوک نے ایک بیان میں کہا ان کے ملک نے شمال مشرقی شام پر ترک حملے کی مذمت کی ہے۔ ہم ترکی سے شام میں جاری جارحانہ مہم جوئی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔شام میں ترکی کی فوجی کارروائی پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے موجودہ صدر اور جنوبی افریقا کے سفیر جیری میتھیوز ماتجیلا سے ترکی سے شہریوں کی جان ومال حفاظت یقینی بنانے اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت پر زرو دیا۔اکتوبر کے مہینے کے لیے کونسل کے صدر نے اس امید کا اظہار کیا کہ جلد از جلد سلامتی کونسل کا اجلاس ہوگا۔ انہوں نے شام میں ترکی کی فوجی کارروائی روکنے کے لیے مختلف ممالک کو قرارداد کا مسودہ تیار کرنے کی بھی دعوت دی۔امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ امریکہ نے شام کے شمال مشرقی علاقے میں ترک فوجی کارروائی پر رضامندی ظاہر نہیں کی تھی۔امریکی ٹی وی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں امریکی وزیرِ خارجہ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکی فوجی نکالنے کے فیصلے کا دفاع کیا اور کہا کہ ترکی کے حفاظتی خدشات حقیقی ہیں۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ اطلاعات کہ امریکہ نے ترکی کو عسکری کارروائی شروع کرنے کی اجازت دی، صریحاً غلط ہیں۔ہم نے ترکی کو کوئی گرین لائٹ (اجازت) نہیں دی۔واضح رہے ترکی نے ترک فوج نے شام میں اپنی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا کہ ترکی

اِس علاقے میں ایک محفوظ زون بنانا چاہتا ہے جہاں کرد ملیشیا کا وجود نہ ہو اور جہاں ترکی آنے والے تقریباً36 لاکھ شامی پناہ گزینوں کو رکھا جائے۔ یہ کارروائی صدر ٹرمپ کی جانب سے اس خطے سے امریکی فوجیوں کو نکالنے کے فیصلے کے بعد شروع ہوئی ہے اور اس اقدام کو دراصل حملے کی اجازت کے حربے کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔ترکی کے اس اقدام کی عالمی برادری کی جانب سے مذمت کی جا رہی ہے اور یورپی یونین نے ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ حملہ بند کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…