جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست سے23ستمبر تک کتنےکم عمر کشمیری بچے گرفتارکئے گئے؟ بھارتی پولیس نے اعتراف کرلیا

datetime 2  اکتوبر‬‮  2019 |

سرینگر (این این آئی)مقبوضہ کشمیرمیں چار ججوں پرمشتمل جموں وکشمیر ہائی کورٹ کی تشکیل شد ہ جوونیل جسٹس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ بھارتی پولیس نے رواں سال 5 اگست سے23ستمبر تک 18سال سے کم عمر کے144بچوں کو گرفتارکیا ہے جن میں 9 سال کے بچے بھی شامل ہیں۔

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق جوونیل جسٹس کمیٹی میں جسٹس اے ایم ماگرے، جسٹس ڈی ایس ٹھاکر، جسٹس سنجیو کمار اور جسٹس رشید علی ڈار شامل ہیں۔ بھارتی سپریم کورٹ میں پیش کی گئی۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ ان میں 86بچوں کو فوجداری قوانین کے تحت احتیاطی تدابیر کے طورپرجبکہ باقی بچوںکو پتھرائو اور دیگر الزامات کے تحت گرفتارکیاگیاہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک گیارہ سالہ بچے کو5 اگست کوسرینگر کے علاقے بٹہ مالو سے کریمنل پینل کوڈ کی دفعہ 107 کے تحت جبکہ ایک 9سالہ بچے اورایک اور 11سالہ بچے کو7اگست کو بٹہ مالو سے ہی گرفتارکیاگیا تھا۔ چار ججوں پر مشتمل ہائی کورٹ کی کمیٹی نے ڈائریکٹر جنرل پولیس کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ کا نوٹس لیا ہے جنہوں نے ذرائع ابلاغ کی ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے ان کو جھوٹ قراردیاتھا جن میں بچوں کی گرفتاری اوران پر تشدد کا انکشاف کیا گیاتھا۔ رپورٹ کے مطابق بچوں کو پارمپورہ ، بڈگام ، صدر، صورہ ، بٹہ مالو اوردیگر علاقوں سے گرفتار کیاگیاہے جبکہ سوپور، راجباغ اور پلوامہ میں بھی بچوں کو گرفتارکیاگیا ۔ ان بچوں کے خلاف پتھرائو اور بھلوے کرنے سمیت مختلف الزامات لگاکر مقدمات درج کئے گئے ہیں۔واضح رہے یہ وہ اعدادوشمار ہے جس کا اعتراف بھارتی پولیس نے خود اپنی رپورٹ میں کیا ہے جبکہ گرفتار بچوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…