بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان میں بدامنی کا راج، روزانہ 300 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو رہے ہیں، بے روزگاری اور غربت میں خوفناک اضافہ،حکمت یار نے انتباہ کردیا

datetime 15  ستمبر‬‮  2019 |

کابل(این این آئی)افغانستان کے سابق وزیراعظم گل بدین حکمت یار نے ملک میں امن وامان کی ابتر صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ملک میں سیکیورٹی کی صورتحال روز بروز بدتر ہوتی جارہی ہے اور افغانستان میں روزانہ 300 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو رہے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق انہوں نے دارالحکومت کابل میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں ملک میں بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ موجودہ انتظامیہ ملک میں جاری بحران

کا حل تلاش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ہر روز ملک میں فوج اور پولیس کے 300 سیکیورٹی اہلکار لقمہ اجل بن رہے ہیں لیکن حکومت اب بھی امن مذاکرات کو روکنے کے لیے کوشاں ہے۔گل بدین حکمت یار نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت جمہوری استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے قیام امن کی ہر تحریک یا نعرے کو روکنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے افغان عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے ملک کو اس صورتحال سے بچانے کے لیے کام کریں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ صرف افغان عوام ہی اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…