بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں اب تک صرف پتھراؤ کرنے کے الزام میں کتنے افراد کوگرفتار کیاگیا؟،بھارتی حکومت نے اعداد و شمارجاری کردیئے، انتہائی تشویشناک انکشافات

datetime 13  ستمبر‬‮  2019 |

نئی دہلی(این این آئی) بھارتی حکومت نے بتایا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے اب تک 4 ہزار افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے،یہ تعداد وادی میں جاری کریک ڈاؤن کی سنگین صورتحال کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

برطانوی خبررساں ایجنسی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارتی حکومت نے یہ اعداد و شمار جاری کیے جن کے مطابق 3 ہزار800 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا تاہم اس میں 2 ہزار 600 افراد رہا کیے جاچکے ہیں۔مذکورہ تفصیلات کے سلسلے میں موقف لینے کے لیے جموں کشمیر پولیس اور بھارتی وزارت داخلہ دونوں سے رابطہ کیا گیا لیکن دونوں نے کسی بھی قسم کے تبصرے سے انکار کیا۔ادھر یہ واضح نہیں کہ زیادہ تر افراد کو کن وجوہات کی بنا پر حراست میں لیا گیا البتہ ایک بھارتی عہدیدار کا کہنا تھا کہ کچھ کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا۔پبلک سیفٹی ایکٹ بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں نافذ ایسا قانون ہے جس کے تحت بغیر کسی الزام کے کسی بھی شخص کو 2 سال تک قید رکھا جاسکتا ہے۔جاری کیے گئے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کتنی بڑی تعداد میں گرفتاریاں کی جارہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کن افراد کو کس جگہ سے اٹھایا گیا۔خیال رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے 2 سابق وزرائے اعلیٰ سمیت 200 سیاستدان گرفتار ہیں، جس میں 100 سے زائد سیاستدانوں کا تعلق بھارت مخالف جماعتوں سے ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…