منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

کیا آپ جانتے ہیں ناروے میں موجود یہ پاکستانی شخص کون ہے جس نے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا

datetime 19  اگست‬‮  2019 |

اوسلو(این این آئی)ناروے میں پاکستان کے سفیر ظہیر پرویز خان نے کہاہے کہ ناروے میں مقیم پاکستانی ہیرو محمد رفیق نے سب پاکستانیوں کے سر فخر سے بلند کردیئے ہیں، جن کی بدولت متعدد لوگ دہشت گردی سے محفوظ رہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ناروے میں پاکستان کے سفیر ظہیر پرویز خان نے یہ بات گزشتہ روز اوسلو میں سفارتخانہ پاکستان میں محمد رفیق اور اْن کے بیٹے ڈاکٹر محمد حامد رفیق سے

ملاقات کے دوران کہی۔سفیر پاکستان نے کہاکہ یہ واقعہ کسی معجزے سے کم نہیں کہ پوری طرح تربیت یافتہ نوجوان مسلح دہشت گرد کو ایک عمر رسیدہ 65 سالہ پاکستانی قابو کرلیتا ہے۔ محمد رفیق فوری کارروائی کرکے پہلے دہشت گرد کی طرف سے فائر کی ہوئی گولیوں کا نشانہ زائل کردیتے ہیں اور پھر اپنی پوری طاقت سے اس کو دبوچ کر زمین پر گرا لیتے ہیں اور تقریباً آدھے گھنٹے اسے قابو میں رکھتے ہیں اور پھر اسے پولیس کے حوالے کردیتے ہیں۔واضح رہے کہ محمد رفیق جو پاکستان ائیرفورس کے سابق چیف وارنٹ آفیسر ہیں اور ان دنوں اپنے بیٹے کے ساتھ ناروے میں قیام پذیر ہیں، نے گزشتہ دنوں عید سے ایک روز پہلے اوسلو کے مضافاتی علاقے بیہرم کی النور مسجد پر حملہ آور ہونے والے اکیس سالہ مسلح دہشت گرد فلپس منشوس کو اس وقت تک قابو میں رکھا جب تک پولیس وہاں پہنچ نہیں گئی۔اس واقعے بعد محمد رفیق ناروے میں ایک ہیرو سمجھے جارہے ہیں اور ہر روز اس واقعے کے حوالے سے ان کا بیان اور تصاویر نارویجن اخبارات پر شائع ہورہی ہیں۔ ناروے کے ٹی وی چینلز نے بھی ان کے بارے میں خبروں کو خصوصی اہمیت دی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…