بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

بھارتی چیف جسٹس نے مقبوضہ کشمیرکی حیثیت ختم کرنے کی درخواست پراعتراضات اٹھادئیے، بڑ ا حکم جاری کر دیا

datetime 16  اگست‬‮  2019 |

نئی دہلی( آن لائن ) بھارتی چیف جسٹس رنجن گوگی نے مقبوضہ کشمیرکی حیثیت ختم کرنیکی درخواست پر اعتراضات کرتے ہوئے کہا اس پٹیشن میں کچھ نہیں، کیوں نہ درخواست کوٹیکنیکل بنیادوں پرمسترد کردوں۔تفصیلات کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ میں مقبوضہ کشمیر سے 370 کے خاتمے کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی ، سماعت خصوصی بینچ بھارتی چیف جسٹس رنجن گوگوئ

ی، جسٹس ایس اے بوبدی اور جسٹس ایس اے نذیر نے کی۔سماعت میں بھارتی چیف جسٹس رنجن گوگی نے درخواست پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا تین دفعہ پٹیشن پڑھی اس میں کچھ نہیں، کیوں نہ درخواست کوٹیکنیکل بنیادوں پرمسترد کردوں۔یاد رہے بھارتی سپریم کورٹ کے جسٹس رمانا نے آرٹیکل 370 کے خاتمے کیخلاف دائر ہونیوالی درخواست کی فوری سماعت سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی سماعت کیلئے تاریخ چیف جسٹس رنجن گگوئی مقرر کریں گے۔آرٹیکل 370 کی منسوخی کو بھارتی ایڈووکیٹ ایم ایل شرما، مقبوضہ کشمیر کی نیشنل کانفرنس کے رہنما محمد اکبر لون اور جسٹس ریٹائرڈ حسنین مسعودی نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے جبکہ بعض دیگر افراد نے بھی آرٹیکل 370 کی منسوخی کو چیلنج کر رکھا ہے۔خیال رہے جوڈیشل ایکٹوازم پینل نے 370 اے کو چیلنج کرنے کیلئے بھارتی سپریم کورٹ کو درخواست بھیجی تھی، جس میں چیف جسٹس سپریم کورٹ آف انڈیا سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے معاملہ پر ازخود نوٹس لینے کی درخواست کی گئی تھی۔درخواست گزار نے مقف اختیار کیا تھا کہ جموں کشمیر اسمبلی پہلے قرداد منظور کرے گی، پھر ترمیم کی جاسکے گی، گورنر کے ذریعے یہ تبدیلی ممکن نہیں ہے، حالیہ ترمیم اختیارات سے تجاوز اور بدنیتی پر مبنی ہے اور بھارتی سپریم کورٹ بھی آرٹیکل 370 میں اس طرح سے کی گئی ترامیم کو کالعدم قرار دے چکی ہے۔درخواست میں کہا گیا اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت جموں کشمیر انڈیا کا حصہ نہیں ہے، ترمیم 1972 میں کئے گئے شملہ معاہدے اور لاہور معاہدہ 1999کی بھی خلاف ورزی ہے اور ہ آرٹیکل 370 میں کی گئی ترمیم آئین انڈین 1950سے متصادم ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…