منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

آرٹیکل 370 کی منسوخی، بھارتی حکومت کے خلاف نئی دہلی میں بھی مظاہرے پھوٹ پڑے،فیصلے کو بھارتی آئین پر حملہ قراردیدیاگیا

datetime 8  اگست‬‮  2019 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے خلاف نئی دہلی میں ہزاروں لوگوں نے حکومت مخالف احتجاجی ریلی نکالی۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق احتجاجی مظاہرین نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے فیصلے کو بھارتی جمہوریت کی موت قرار دیا۔کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری دورائے سامے راجا نے کہا کہ جس طرح بی جے پی قانون لائی اور انہوں نے 370 آرٹیکل کو منسوخ کیا وہ دراصل بھارت میں جمہوریت اور آئین پر قاتلانہ حملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے ہمارے جمہوری اقدار کے بنیادی اصولوں پر وار کیا ہے۔کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری کے مطابق ملک کے دیگر حصوں میں بھی بی جی پی کے خلاف احتجاجی مظاہرے منعقد کیے گئے تاہم لوگوں کو مزید متحرک کرنے کے لیے مظاہروں کا سلسلہ جاری رہے گا۔اس موقع پر کمیونسٹ پارٹی لبریشن کی رکن کاویتا کریشنا نے کہا کہ کشمیری لوگوں نے 1947 میں بھارت سے اس لیے الحاق کیا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کی شناخت اور آزادی پاکستان کے مقابلے میں سیکولر بھارت میں محفوظ رہے گی اور آرٹیکل 370 مزید ضمانت فراہم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کی وجہ سے جموں و کشمیر میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط نہیں ہوئیں بلکہ کرپشن بڑھی، غربت نے ڈیرے ڈالے اور اقتصادی انفراسٹرکچر پروان نہیں چڑھ سکا۔ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی کو اپنے فیصلے پر قانونی چیلنجز اور پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، ساتھ ہی انہوں نے اس فیصلے کو ’بھارت کے وفاقی آئین‘ پر حملہ قرار دیا۔احتجاج کے دوران سیاسی جماعت جموں و کشمیر پیپلز موومنٹ کی رکن شہلا راشد نے کہا کہ جموں و کشمیر ریاست کی منتخب قانون ساز اسمبلی کی عدم موجودگی میں آرٹیکل 370 کو منسوخ کیا گیا، اس اقدام کے خلاف ہم سیاسی اور قانون محاذ پر مقابلہ کریں گے۔مظاہرے میں شریک ایک رکن نے کہا کہ وہ احتجاجی مظاہرے میں اس لیے شریک ہوئے کیونکہ انہیون شرم آرہی کہ ان کی حکومت ایک ریاست کے لوگوں سے مشاورت کے بغیر ہی اتنا بڑا فیصلہ کیسے کرسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بھارتی جمہوریت کی توہین ہے اور جمہوری اقدام کے قطعی منافی ہے۔نئی دہلی میں احجاجی مظاہرے میں شریک کشمیری طلبہ مہوش نے کہا کہ بھارت دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہونے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن دنیا نے دیکھ لیا کہ یہاں کس قسم کی جمہوریت پروان چڑھ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا کئی دنوں سے اپنے اہلخانہ سے کوئی رابطہ نہیں ہوا، موجودہ حکومت ہمارے درد کا احساس نہیں کرتی کیونکہ بی جے پی کو صرف کشمیری زمین کے علاوہ کسی کی پرواہ نہیں ہے۔مہوش کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کا مطلب کشمیری اپنی شناخت سے محروم کردئیے جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…