منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

چین میں مسلمان کیسی زندگی گزار رہے ہیں ؟ طیب اردگان کا یوٹرن ، بڑا اعلان کر دیا

datetime 5  جولائی  2019 |

بیجنگ (این این آئی)چین اور ترکی کے درمیان تعلقات گذشتہ کچھ عرصے سے کشیدہ چلے آ رہے ہیں اور اس کشیدگی کی وجہ چین کے سنکیانگ صوبے میں یغور نسل کے مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیاں بتائی جاتی ہیں۔ مگر حال ہی میں ترک صدر رجب طیب اردگان جو یغور مسلمانوں کے حقوق کی پر زور وکالت کر رہے تھے یو ٹرن’ لینے کے بعد چین کے سرکاری موقف کی حمایت کرنے لگے ہیں۔

چین کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق حال ہی میں انہوںنے اپنے چینی ہم منصب شی جین پینگ سے ملاقات میں کہا کہ ہم یغور نسل کے مسلمانوں کے حوالے سے مطمئن ہیں۔ یغور مسلمان خوش وخرم زندگی گذار رہے ہیں۔ چار ماہ قبل ترک وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ چین میں یغور نسل کے ترکی بولنے والے مسلمانوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے جو انسانیت کے ماتھے پر بدنما داغ ہے۔چین کے شمال مغربی صوبے سنکیانگ میں یغور نسل کے مسلمان باشندوں کی تعداد 20 لاکھ سے زیادہ ہے مگر ان کے بنیادی حقوق کے حوالے سے بیجنگ پر عالمی اداروں کی طرف سے سخت تنقید کی جاتی ہے۔ چین پر الزام ہے کہ اس نے یغور نسل کے مسلمانوں پر مذہبی پابندیوں کے ساتھ ساتھ انہیں فوجی کیمپوں میں بند کر رکھا ہے جہاں انہیں بنیادی انسانی حقوق تک حاصل نہیں ہیں۔ چین ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتا چلا آیا ہے۔چین کا کہنا ہے کہ یغور نسل کے مسلمانوں کو پیشہ ورانہ تعلیمی مراکز میں رکھا گیا ہے جہاں ان کی تعلیم وتربیت کا انتظام کیا جاتا ہے۔ انہیں مذہبی انتہا پسندی سے بچانے کے لیے چینی زبان میں مختلف پیشوں کی تربیت دی جاتی ہے۔چین کی ’ڑنہوا‘ نیوز ایجنسی کے مطابق صدر طیب اردگان نے کہا کہ چین متحدہ کی پالیسی کی حمایت پر کار بند رہے گا۔ سنکیانگ کے علاقے میں موجود یغور نسل کے مسلمان خوشی کیساتھ زندگی گذار رہے ہیں اور وہاں کی آبادی کو داخلی خود مختاری حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کی ترقی اور خوش حالی ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ انقرہ، بیجنگ کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔صدر ایردوآن نے کہا کہ ان کا ملک دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی اعتماد سازی کے فروغ، انتہا پسندی سے نمٹنے اور سیکیورٹی کے شعبے میں دو طرفہ تعاون جاری رکھے گا۔

ترک صدر نے خبردار کیا کہ سنکیانگ صوبے میں مسلمانوں کے مسائل کی آڑ میں ترکی اور چین کے درمیان تعلقات کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی اور چین دو بڑے تجارتی شراکت دار ہیں اور تجارتی شراکت داری کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…