منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

جمہویت کی ’’ماں ‘‘ کہلانے والی برطانوی حکومت اپنے ہی وزیر داخلہ کیساتھ ہاتھ کر گئی، ٹرمپ کے اعزاز میں دی گئی ضیافت میں پاکستانی نژاد ساجد جاوید کیساتھ ایسا کیاکام کر دیا جس کی کسی کو بھی امید نہ تھی

datetime 14  جون‬‮  2019 |

لندن (این این آئی)برطانیہ کو جمہوریت کی ’’ماں‘‘ کہا جاتا ہے اور اظہارِ رائے کی آزادی کو جمہوریت میں ایک بنیادی اصول تسلیم کیا جاتا ہے لیکن دنیا کے اس ’’ عظیم ‘‘ جمہوری ملک کے وزیر داخلہ ساجد جاوید کو گذشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعزاز میں بکنگھم پیلس میں ملکہ برطانیہ کی جانب سے منعقدہ ضیافت میں مدعو ہی نہیں کیا گیا تھا اور وہ اب اس پر شکوہ کناں ہیں۔

لیکن اس کی وجہ جان کر آپ تھوڑے سے حیران ضرور ہوں گے۔ پاکستانی نژاد ساجد جاوید برطانوی کابینہ کے واحد سینئر وزیر تھے جنھیں اس تقریب میں شرکت کی دعوت ہی نہیں دی گئی تھی ۔ انھوں نے وزیر اعظم کے دفتر سے اس بابت پوچھا ہے کہ انھیں دعوت نامہ کیوں نہیں بھیجا گیا تھا ؟مگر ابھی تک 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کی جانب سے انھیں کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا ہے۔لیکن کیا مہمان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی برطانوی وزیر داخلہ سے کوئی ذاتی ناراضی تھی۔ جی ہاں! انھیں آزادیِ اظہار کا حق استعمال کرنے پر ہی شاید صدر ٹرمپ کی ناراضی کے خدشے کے پیش نظر نہیں بلایا گیا ۔مبادا ان کا ضیافت کی تقریب میں امریکی صدر سے ٹاکرا ہوجائے۔اس کا قصہ کچھ یوں ہے کہ 2017ء میں صدر ٹرمپ نے برطانیہ کے انتہائی دائیں بازو کے گروپ کی ایک ٹویٹ کو ری ٹویٹ کیا تھا۔اس پر ساجد جاوید نے یہ ٹویٹ کی تھی چنانچہ پوٹس نے منافرت انگیز نسل پرست تنظیم کے نقطہ نظر کی توثیق کردی ہے۔وہ تنظیم جو مجھ سے اور مجھ ایسے لوگوں سے نفرت کرتی ہے۔وہ (امریکی صدر) غلط ہیں ۔ میں اس پر کچھ کہے بغیر اس معاملے کو ایسے ہی نہیں چھوڑ دوں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…