منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

ایرانی معیشت غیرمعمولی دبائو کا شکار ہے،قطری وزیرخارجہ

datetime 10  جون‬‮  2019 |

لندن(این این آئی )قطر کے وزیرخارجہ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے کہا ہے کہ 40 سال سے ایران پرعاید معاشی پابندیوں کے باعث ایرانی معیشت سخت ترین دبائو کا شکار ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق لندن میں صحافیوں سے بات چیت میں قطری وزیرخارجہ نے کہا کہ قطری کشیدگی میں کمی لانے کے لیے امریکا اور ایران دونوں کیساتھ بات چیت کررہا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ دونوں ملک بات چیت کے ذریعے تنازعات کا حل نکالیں اور کوئی درمیانہ راستہ اختیار کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ قطر نے امریکا اور ایران کیدرمیان اختلافات کم کرنے کی موثر

کوششیں کی ہیں اور یہ کوششیں مزید بھی جاری رکھی جائیں گی۔قطری وزیرخارجہ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کو ہمیشہ کیلیے جاری نہیں رکھا جا سکتا۔ دونوں ملکوں کو کشیدگی کی آخری حدوں میں داخل ہونے کے بجائے باہرنکلنے کا راستہ تلاش کرنا چاہیے۔گذشتہ بدھ کوامیرقطر الشیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے ایرانی صدرحسن روحانی سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔اس موقع پر امیر قطر نے خلیجی ملکوں کی پالیسی کو ہدف تنقید بنایا۔الشیخ تمیم بن حمد بن آل ثانی نے کہا کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ تمام شعبوں میں تعلقات کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…