منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کے نومنتخب40 فیصد ارکان پارلیمنٹ پر ریپ، قتل سمیت کئی مقدمات درج

datetime 26  مئی‬‮  2019 |

نئی دہلی(این این آئی)ایسوسی ایشن آف ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر)نے کہاہے کہ بھارت کی نئی پارلیمنٹ کے 40 فیصد سے زائد قانون ساز ریپ اور قتل سمیت کئی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔بھارتی ٹی وی کے مطابق اے ڈی آر کی رپورٹ میں کہاگیاکہ کانگریس کے

ایک قانون ساز قتل، ڈکیتی سمیت 204 مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ انتخابی نشستوں پر کامیاب ہونے والے 543 اراکین میں سے کم از کم 233 افراد پر مجرمانہ اقدامات کے مقدمات فرج ہیں۔رپورٹ کے مطابق جیتنے والے 539 افراد کے ریکارڈز کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ مجرمانہ کیسز کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد 2004 سے اب تک سب سے زیادہ رہی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی کامیاب ہونے والی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے 303 قانون سازوں میں سے 116 مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ ایک پر دہشت گردی کے مقدمات بھی درج ہیں۔کانگریس کے 52 اراکین پارلیمنٹ میں سے 29 پر مقدمات درج ہیں جبکہ کیرالا ریاست سے جیتنے والے قانون ساز دین کوریاکوس پر تنہا 204 مقدمات درج ہیں۔اے ڈی آر کا کہنا تھا کہ مقدمات کا سامنا کرنے والے قانون سازوں کی تعداد گزشتہ ایک دہائی میں دگنی ہوئی ہے جن میں سے 11 پر قتل، 30 پر گلے کاٹنا اور 3 پر ریپ کا الزام ہے۔بھارتی قانون کے مطابق 2 سال یا اس سے زائد کی سزا پانے والے مجرمان پر انتخابات میں حصہ لینے کی پابندی ہے، تاہم چند جرائم میں اس سے استثنیٰ بھی حاصل ہے۔گزشتہ حکومت کے 185 قانون سازوں میں سے، جنہیں مختلف مقدمات کا سامنا تھا، کسی کو بھی سزا نہیں سنائی گئی جبکہ کئی واپس پارلیمنٹ میں آگئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…