پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی شاہی خاندان کے 15ہزارافراددو ہزار کھرب روپے سے زائدکے مالک،صرف سعودی فرمانرواکتنے کھرب روپے کے اثاثے رکھتے ہیں؟حیرت انگیز انکشافات

datetime 16  مئی‬‮  2019 |

ریاض(این این آئی)سعودی شاہی خاندان کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والی ایک ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی شاہی خاندان کے پاس دہائیوں سے خام تیل کی آمدنی سے کی جانے والی سرمایہ کاری کے نتیجے میں اثاثوں کی مالیت 14 کھرب ڈالرز (2 ہزار کھرب پاکستانی روپے سے زائد) تک ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس بات کا اندازہ سعودی شاہی خاندان کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والی ایک ویب سائٹ نے لگایا۔

ہاؤس آف سعود نامی ویب سائٹ سعودی شاہی خاندان کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والی ویب سائٹ ہے، جس میں اثاثوں کے بارے میں بتایا گیا ہے۔سعودی شاہی خاندان میں 15 ہزار کے قریب افراد موجود ہیں مگر بیشتر دولت کے مالک ان میں سے 2 ہزار افراد ہیں۔ویب سائٹ کے مطابق سعودی شاہی خاندان کے پاس دہائیوں سے خام تیل کی آمدنی سے کی جانے والی سرمایہ کاری کے نتیجے میں اثاثوں کی مالیت 14 کھرب ڈالرز (2 ہزار کھرب پاکستانی روپے سے زائد) تک ہوسکتی ہے۔سعودی شاہی خاندان کے افراد اپنی دولت کے حوالے سے معلومات کو کافی نجی رکھتے ہیں مگر ان کا طرز زندگی کا پرتعیش ہوتا ہے جس میں مہنگی اشیا کی خریدار، نجی جہازوں کی ملکیت، پرتعیش یاٹس، ہیلی کاپٹرز، جائیدادیں اور ایسا ہی بہت کچھ شامل ہے۔مگر اس کے ساتھ ساتھ اس خاندان کے افراد فلاحی اداروں کے ذریعے ضرورت مندوں کی مدد بھی کرتے ہیں جبکہ سعودی شہریوں کو سرمایہ بھی فراہم کرتے ہیں۔سعودی فرمانروا شاہ سلمان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ20کھرب روپے سے زائد کے مالک ہیں جس کا اظہار ولی عہد محمد بن سلمان مہنگی ترین اشیا کی خریداری سے کرتے رہتے ہیں۔امریکی جریدے فوربس کے مطابق برطانوی شاہی خاندان کے اثاثوں کی مالیت 88 ارب ڈالرز (128 کھرب پاکستانی روپے سے زائد) ہے جبکہ سعودی شاہی خاندان کی دولت کا تخمینہ اوپر درج کیا جاچکا ہے۔یعنی سعودی شاہی خاندان برطانوی شاہی خاندان سے 16 گنا زیادہ امیر قرار دیا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…