منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

نیو سلک روڈ امریکا اور چین میں تجارتی جنگ کا سبب‘نئے روڈ پروجیکٹ کے ذریعے چین ایشیائی، افریقی اوریورپی ممالک کو ایک لڑی میں پرو دے گا

datetime 8  مئی‬‮  2019 |

میکسیکو/بیجنگ (این این آئی)چین کی جانب اپنی مصنوعات چار دانگ عالم میں پہنچانے کے لیے چینی حکومت کئی منصوبوں پرعمل پیرا ہے۔ انہی منصوبوں میں نیو سلک روڈ کا منصوبہ عالمی توجہ کا مرکز ہے۔ میکسیکو کے ایک موقر اخبارکرونیکا دی چیوائوا نے چین کے سلک روڈ منصوبے کی بیجنگ کے لیے تجارتی افادیت اور اس کے عالمی معیشت بالخصوص امریکی معاشی غلبے کے پر سیر حاصل بحث کی ہے۔

اخبارنے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ چین کا سلک روڈ کا نیا منصوبہ اپنی جگہ مگر یہ اپنی نوعیت کا پہلا پروجیکٹ نہیں بلکہ ایک سو قبل مسیح سے 14 ویں صدی تک چین کی طرف سے سلک روڈ کے نام سے ایک تجارتی شاہراہ قائم کی گئی۔ یہ تجارتی راستہ چین سے منگولیا، ہندوستان، ایران، جزیرہ نما عرب، شام اور ترکی کے راستے یورپ تک جا پہنچتا۔ اس راستے سے چینی مصنوعات یورپ اور یورپ کی چین تک لائی جاتی۔ یہ سڑک چین سے یورپ تک کے ممالک میں ڈیڑھ ہزار سال تک خوش حالی کا دور دورہ رہا۔ یورپی لوگ اس راستے سے چین آتے اورچینی مصنوعات سے متاثر ہوتے۔ جس طرح وہ مارکوپولوکے سفرناموں سے متاثر ہوتے اس طرح چین کے سفر سے بھی لطف اندوز ہوتے۔مگر چین کا یہ پرانا سلک روڈ منگول بادشاہت کیتتر بتر ہونے اور چینگیز خان کی ہلاکت کیبعد بند ہوگیا۔ منگول شہنشاہیت کے خاتمے سے ایشیا میں ہرطرف سیاسی بد نظمی پھیل گئی جس کے نتیجے میں چین کا سلک روڈ بھی متاثر ہوا۔ 700 سال بعد آج ایک بار پھرچین نے پرانے سلک روڈ کوایک نئی شکل دی ہے۔ 2013ء میں چینی صدر شی جن پنگ نے چین سے یورپ اوروسطی ایشیائی ریاستوں کو ملانیوالے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کا ویژن پیش کیا۔ بعد ازاں اسی پروجیکٹ کو پرانے تجارتی راستے کی نسبت سے نیوسلک روڈ کا نام دیا گیا۔سلک روڈ منصوبے کے اہداف کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ چین عالمی سطح پر اپنا تجارتی اثرو نفوذ بڑھانیکے لیے سلک روڈ منصوبے کو استعمال کرے گا چین کی حالیہ عرصے کے دوران معاشی اور صنعتی ترقی نے دنیا کے دور دراز علاقوں تک رسائی کی راہ ہموار کی۔ اس وقت چین تجارتی ، معاشی اور صنعتی میدان میں امریکا کے مد مقابل ہے۔نیو سلک روڈ منصوبے سے نہ صرف ایشیا بلکہ پوری دنیا میں امریکی

معاشی غلبے کے خلاف چین ایک مضبوط حریف کے طورپرسامنے آئے گا۔نئے روڈ پروجیکٹ کے ذریعے چین ایشیائی، افریقی اوریورپی ممکالک کو ایک لڑی میں پرو دے گا۔ امریکا کے لیے چین کے اس تجارتی منصوبے کی وجہ سے ایک پریشانی یہ بھی ہیکہ لاطینی امریکا کے ممالک نے بھی

اس میں شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ پچیس 26 اور 27 اپریل کو بیجنگ میں نیو سلک روڈ پروجیکٹ کے حوالے سے دوسری کانگرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس کانگرنس میں امریکا، سمیت 150 ملکوں کے مندوبین، عالمی مانیٹری فنڈآئی ایم ایف کے نمائندوں اور 37 ممالک کے سربراہان مملکت نے شرکت کی۔ ان میں چلی، یورا گوائے، اکواڈورم وینز ویلا، بولیویا، کوسٹا ریکا، کیوبا اور پیرو کے سربراہ

شامل تھے۔چین اور لاطینی امریکا کے ممالک تجارتی تعلقات نئے نہیں اور نہ ہی وہ سلک روڈ سے منسلک ہیں۔ امریکا کے بعد لاطینی امریکاکے خطے میں چین دوسرا اہم ملک بن چکا ہے۔ بیجنگ میں منعقدہ کانفرنس میں لاطینی ممالک کے سربراہان کی شرکت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آنے والے برسوں میں چین پوری دنیا میں امریکا کا تجارتی اور معاشی میدان میں سب سیبڑا حریف بن کر ابھرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…