منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

عراقی فوج نے داعش کے میڈیا سینٹر سمیت15 ٹھکانوں کو تباہ کردیا

datetime 12  اپریل‬‮  2019 |

بغداد(این این آئی)عراق کی انسداد دہشت گردی فورسز نے شمالی حصے ہمرین میں داعش کے میڈیا سینٹر سمیت ٹھکانوں کو تباہ کردیا۔واضح رہے کہ عراق نے ایک برس قبل دعویٰ کیا تھا کہ ملک سے داعش کا مکمل خاتمہ کردیا گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق ملٹری کے ترجمان جنرل یحیحیٰ رسول نے بتایا کہ وزیراعظم کے خصوصی احکامات کی روشنی میں انسداد دہشت گردی ادارے نے ہمرین کے پہاڑوں میں موجود

داعش کے باقی ماندہ دہشت گردوں پر حملہ کیا۔انہوں نے تسلیم کیا کہ داعش کے خلاف آپریشن میں عراق سمیت امریکی اتحادی فضائیہ کے طیاروں نے بھی حصہ لیا۔سی ٹی ایس کے ترجمان شباب الننان نے بتایا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن چار دن تک جاری رہا اور اس دوران داعش کے 15 ٹھکانے تباہ کیے گئے۔داعش نے 2014 کے سرما میں عراق کے شمال مغرب میں ملک دوسرے بڑے شہر موصل کا قبضہ حاصل کرنے کے بعد دارالحکومت بغداد کی جانب پیش قدمی کی تھی۔بعدازاں امریکا نے فضائی کارروائی کے ذریعے عراق کی سرحدوں پر قبضہ کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف مسلح مہم شروع کردی تھی اور طویل جدوجہد کے بعد فوج نے رواں سال جولائی میں موصل کا قبضہ دوبارہ حاصل کرلیا تھا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ داعش کے میڈیا سینٹر، جہاں سے ہفتہ وار میگزین الناب شائع ہوتا تھا تباہ کردیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ خصوصی ٹیم قبضے میں لیے گئے کمپیوٹر اور دستاویزات کا جائزہ لے رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عراق کے دیگر حصوں میں اسی طرز کے دیگر انسداد دہشت گردی پر مشتمل حملے کیے جائیں گے۔واضح رہے کہ 2017 کے اواخر میں عراق کی فوج نے امریکی سربراہی میں اتحادیوں کی حمایت سے داعش سے تین سال سے بھی زائد عرصے تک قبضے میں رہنے والے قصبے راوہ کا کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔عراق کی وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ رسول نے کہا تھا کہ فوج اور مقامی قبائلی جنگجو نے مغربی صوبے انبار کے علاقے راوہ میں پانچ گھنٹے کی لڑائی کے بعد داعش کو پیچھے دھکیل دیا گیا اور علاقے کا قبضہ دوبارہ حاصل کرلیا گیا۔عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی نے راوہ کا قبضہ دوبارہ حاصل کرنے پر فوج کو مبارک باد دی تھی۔حیدرالعبادی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ عراقی فورسز نے رواہ کو ریکارڈ وقت میں آزاد کروا دیا ہے اور عراق کے مغربی صحرا اور شام کے ساتھ سرحد پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کے لیے آپریشن جاری رکھا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…