ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

’’گرین ٹریکٹر اسکیم‘‘ میں 7 لاکھ 50 ہزار روپے کی سبسڈی حاصل کرنے کا طریقہ کار سامنے آگیا

datetime 26  ستمبر‬‮  2026 |

لاہور (نیوز ڈیسک)پنجاب حکومت کی ’’گرین ٹریکٹر اسکیم‘‘ کے چوتھے مرحلے کی ڈیجیٹل قرعہ اندازی مکمل ہوگئی، جس کے تحت منتخب کسانوں کو ٹریکٹر کی خریداری پر 7 لاکھ 50 ہزار روپے فی ٹریکٹر سبسڈی فراہم کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی موجودگی میں اسکیم کے چوتھے فیز کی ڈیجیٹل قرعہ اندازی کی گئی، جبکہ اس موقع پر پروگرام کے پانچویں مرحلے کے لیے آن لائن پورٹل بھی کھول دیا گیا۔

حکام کے مطابق موجودہ مالی سال میں پنجاب حکومت کی جانب سے کسانوں کو مجموعی طور پر 19 ہزار 500 ٹریکٹرز فراہم کیے جائیں گے۔ چوتھے مرحلے کی قرعہ اندازی میں اٹک سے تعلق رکھنے والے مسعود خان ولد لعل خان کا نام پہلے ٹریکٹر کے لیے نکلا۔

اس مرحلے میں 50 سے 65 ہارس پاور کی کیٹیگری کے 10 ہزار ٹریکٹرز کسانوں کو فراہم کیے جائیں گے۔ ہر ٹریکٹر کی خریداری پر حکومت کی جانب سے 7 لاکھ 50 ہزار روپے کی مالی معاونت دی جائے گی۔

دوسری جانب اسکیم کے پانچویں مرحلے میں 75 سے 125 ہارس پاور کے 9 ہزار 500 ٹریکٹرز شامل کیے گئے ہیں، جن پر فی ٹریکٹر 10 لاکھ روپے سبسڈی مختص کی گئی ہے۔

حکومت پنجاب نے گرین ٹریکٹر پروگرام کے لیے مجموعی طور پر 17.6 ارب روپے کا بجٹ مقرر کر رکھا ہے۔ حکام کے مطابق اسکیم کے مختلف مراحل کے تحت اب تک 24 ہزار ٹریکٹرز کسانوں میں تقسیم کیے جا چکے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق چوتھے مرحلے میں شرکت کے لیے 2 لاکھ 13 ہزار 637 کسانوں نے درخواستیں جمع کروائیں۔ نادرا اور پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی سے تصدیق کے بعد ان میں سے ایک لاکھ 28 ہزار 757 درخواست گزاروں کو ڈیجیٹل قرعہ اندازی میں شامل ہونے کے لیے اہل قرار دیا گیا۔

اجلاس کے دوران پیش کی جانے والی بریفنگ میں بتایا گیا کہ مریم نواز کے تقریباً ڈھائی سالہ دور میں اب تک 35 ہزار ٹریکٹرز کسانوں کو فراہم کیے جا چکے ہیں، جبکہ اس کے مقابلے میں گزشتہ 20 برس کے دوران 10 ہزار ٹریکٹرز تقسیم کیے گئے تھے۔

بریفنگ کے مطابق گزشتہ ڈھائی سال میں زرعی میکنائزیشن کے شعبے پر 20 ارب روپے خرچ کیے گئے، جبکہ اس سے قبل دو دہائیوں کے دوران اس مقصد کے لیے صرف 3 ارب روپے مختص یا خرچ کیے گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…