پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

امریکا : مسلم خاتون فوجی کا حجاب اتارنے کے حکم کیخلاف عدالت جانے کا فیصلہ

datetime 5  اپریل‬‮  2019 |

واشنگٹن(این این آئی )امریکی فوج میں شامل مسلمان خاتون فوجی نے حجاب اتارنے سے متعلق تذلیل آمیز رویے کے خلاف فوج پر مقدمہ دائر کرنے کا فیصلہ کر لیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سپورٹ بٹالین کی مسلم سارجنٹ کیسیلا ویلڈویانوز نے بتایا کہ وہ باحجاب خاتون ہیں اور ان کے کمانڈ سارجنٹ میجر نے دیگر سپاہیوں کی موجودگی میں جبرا حجاب اتارنے کا حکم دیا۔

انہوں نے اس امر کا اظہار کیا کہ مسلمان شناخت ہونے کی وجہ سے انہیں اپنے ہی ساتھی فوجیوں سے انتہائی نفرت آمیز رویے کا سامنا ہے۔اپنے ایک انٹرویو میں 26 سالہ امریکی مسلمان خاتون فوجی نے بتایا کہ مجھے بعض اوقات دہشت گرد اور داعش کہہ کر پکارا جاتا ہے۔کیسیلا ویلڈویانوز نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ مجھے ایسے جملے بھی سننے کو ملے کہ میں نائن الیون حملے کی ذمہ دار ہوں، فوج میں بہت نفرت اور دشمنی ہے۔واضح رہے کہ امریکی فوج میں سر ڈھانپنے اور حجاب لینے سے متعلق پالیسی 2017 میں متعارف کرائی گئی تھی جس کا تذکرہ آرمی مینیول 03-2017 میں درج ہیں۔کیسیلا نے انکشاف کیا کہ اپنے خلاف مذہبی متعصبانہ رویہ اختیار کیے جانے پر 7 مارچ کو فوج کے محکمہ حقوق میں شکایت درج کرائی، لیکن اعلی افسران نے اسے غیر مصدقہ قرار دے کر میرے موقف کو مسترد کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ کرنل ڈیوڈ زین نے گزشتہ برس جون میں انہیں فوجی یونیفارم کے ساتھ حجاب پہنے کی اجازت دی اور جب انہوں نے حجاب پہنا تو تب سے ہی انہیں ساتھی فوجیوں کی جانب سے شدید نفرت کا سامنا ہے۔علاوہ ازیں خاتون فوجی نے غیر سرکاری ادارے ملٹری ریلیجن فریڈم فانڈیشن (ایم آر ایف ایف) کو ارسال کی گئی ای میل میں بتایا کہ اپنے کمانڈ سارجنٹ اور ساتھیوں کے متعصبانہ رویہ کی وجہ سے انہیں سخت پریشانی لاحق ہے۔انہوں نے بتایا کہ فوج کے محکمہ حقوق میں ان کی درخواست مسترد ہونے پر وہ امریکی فوج کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…