منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

گولان چوٹیوں پراسرائیلی خود مختاری کا امریکی فیصلہ عرب ممالک نے صفیں جوڑ لیں ، اب تک کا بڑا اعلان کر دیا

datetime 26  مارچ‬‮  2019 |

قاہرہ(این این آئی )عرب ممالک نے امریکا کی طرف سے شام کے مقبوضہ وادی گولان کے علاقے پر صہیونی ریاست کی حاکمیت کا اعلان مسترد کردیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گذشتہ روز مقبوضہ وادی گولان کو اسرائیل کا حصہ قرار دینے کے اعلان پرعرب ممالک کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ۔

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے امریکی صدر کے اعلان کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ شام کے مقبوضہ علاقے پر اسرائیلی ریاست کی خودمختاری تسلیم کرنا’باطل’ بین اقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی برادری کے اصولی موقف کی توہین ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی طرف سے وادی گولان کے بارے میں اعلان سے مقبوضہ علاقے کی قانونی حیثیت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ گولان چوٹیاںہر اعتبارسے شام کا مقبوضہ علاقہ ہے جس اسرائیلی ریاست کی اجارہ داری کا کوئی جوازنہیں۔ 1981ء میں سلامتی کونسل نے قرارداد 497 منظور کرکے وادی گولان کے بارے میں تمام ابہام ختم کردیے تھے اور واضح کردیا تھا کہ وادی گولان اسرائیل کا حصہ نہیں بنے گا۔ عرب لیگ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ وادی گولان کے بارے میں تمام عرب ممالک کا موقف ایک ہے اور تمام عرب ممالک تیونس میں ہونے والے عرب لیگ کیاجلاس میں اپنا موقف مزید واضح کرے گی۔درایں اثناء عرب پارلیمنٹ نے بھی مقبوضہ ادی گولان پر اسرائیلی کی خود مختاری کے امریکی اعلان کو غیرآئینی اور باطل قرار دیا ہے۔ عرب پارلیمنٹ کاکہنا تھا کہ وادی گولان کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کرنے سے خطے میں بدامنی اور عدم استحکام کی ایک نئی لہر اٹھ سکتی ہے، جس کا ذمہ دار امریکا ہوگا۔عرب پارلیمنٹ کے سرباہ مشعل بن فھم السلمی نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی صدر نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے بعد ایک بار پھرجنرل اسمبلی کی اور سلامتی کونسل کی قرارداد 242 اور 497 کو دیوار پردے مارا ہے۔ عرب ممالک امریکا کے اس باطل اور ناجائز فیصلے کو قبول نہیں کرتے۔لبنان اور اردن کی طرف سے بھی امریکی صدر کیگولان چوٹیوں کے بارے میں متنازع فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔ اردن کا کہنا تھا کہ وادی اردن پر اسرائیلی حاکمیت تسلیم کرنے سے دیگر مقبوضہ عرب علاقوں پربھی اسرائیل کے ناجائز تسلط کو جواز فراہم کرنے کی راہ ہموار ہوگی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…