اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیرمیں مظالم کے خلاف او آئی سی کی قرارداد پر بھارت کا شدیدردعمل سامنے آگیا

datetime 3  مارچ‬‮  2019 |

نئی دہلی (این این آئی) بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج نے مسئلہ کشمیر کو مکمل طور پر اندرونی معاملہ قرار دیتے ہوئے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں دہشتگردانہ اقدامات کے خلاف منظور کی گئی قرارداد کو مسترد کردیا۔بھارت کے وزارت خارجہ امور سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے قرارداد کے معاملے پر ہمارا موقف واضح اور ٹھوس ہے،

ہم تجدید کرتے ہیں کہ جموں و کشمیر بھارت کا حصہ ہے اور یہ مکمل طور پر بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات کے شہر ابوظہبی میں اوآئی سی کے وزرائے خارجہ کے 46 ویں اجلاس میں رکن ریاستوں نے قرارداد منظور کی تھی جس کے متن میں واضح کیا گیا تھا کہ جموں و کشمیر دونوں ممالک پاکستان اور بھارت کے درمیان بینادی تنازع ہے اور یہ قرارداد جنوبی ایشیا میں امن کے خواب کیلئے ناگزیر ہے۔او آئی سی کی قرارداد میں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے حالیہ دہشت گردانہ اقدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی تھی اور مقبوضہ وادی میں مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پرگہری تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔او آئی سی کی قرار داد میں مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا تھا۔مقبوضہ کشمیر میں پیش آنے والے حالیہ مظالم پر اوآئی سی کے رکن ممالک نے پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی ایک اور قرار داد کو بھی منظور کیا تھا جس میں بھارت کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر بھی گہری تشویش ظاہر کی گئی تھی۔پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں پاکستان کے دفاعی حق کا اعادہ کیا گیا تھا اور بھارت پر زور دیا گیا تھا کہ دھمکیاں یا فورس کے استعمال سے گریرکریں۔او آئی سی کی قرار داد میں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھارت کو مذاکرات کی پیش کش اور گرفتار کیے گئے بھارتی پائلٹ کو جذبہ خیرسگالی کے تحت رہا کرنے کے فیصلے کو سراہا گیا۔

قرارداد میں کشیدگی سے گریز کرنے کے ساتھ ساتھ تمام مسائل کو پرامن طریقوں سے حل کرنے پر زور دیا گیا تھا۔یاد رہے کہ بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج نے ایک روز قبل ہی او آئی سی کے اجلاس میں شرکت کی تھی اور اپنے خطاب میں دہشت گردوں کی معاونت کرنے والی ریاستوں کے خلاف سخت اقدامات کرنے پر زور دیا تھا جس کے اگلے روز او آئی سی رکن ممالک کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی شدید مذمت کی گئی۔پاکستان کے وزیر خارجہ نے او آئی سی کے اجلاس میں بھارتی وزیرخارجہ کو دعوت دینے پر احتجاج کرتے ہوئے شرکت سے انکار کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…