اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

’’ایک شخص کا زیادہ شادیاں کرنا عورت پر ظلم ہے‘‘ سربراہ مصری جامعہ شیخ الازھر نے وجہ بھی بتا دی

datetime 3  مارچ‬‮  2019 |

قاہرہ(این این آئی)مصرکی سب سے بڑی دینی درسگاہ جامعہ الازھر کے سربراہ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے باعث مذہبی اور سماجی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔جامعہ الازھر کے سربراہ الشیخ احمد الطیب نے کہا ہے کہ ایک شخص کا زیادہ شادیاں کرنا عورت پر ظلم کے مترادف ہے۔

جو لوگ کثرت ازواج کے قائل ہیں وہ غلطی پر ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق مصرکے پروگرام میں بات کرتے ہوئے شیخ الازھر نے کہا کہ قرآن پاک کا حکم ہے فین خفتم یلا تعدلوا فواحدۃ( اگر تمہیں ڈر ہو کہ تم بیویوں میں انصاف نہیں کرسکو گے تو ایک بیوی کافی ہے)۔ ان کا کہنا تھا کہ کثرت ازواج عورتوں اور اولاد دونوں پرظلم ہے۔ تعدد ازواج کے حوالے سے قرآن کی نص کو بہ غور پڑھنے کی ضرورت ہے۔ یہ پوری آیت کا ایک حصہ ہے پوری آیت نہیں ہے۔ اس کا کچھ حصہ پہلے اور کچھ بعد میں ہے۔ڈاکٹرالطیب نے استفسار کیا کہ کیا مسلمان بیوی پر ایک اور شادی کرنے کے لیے آزاد ہے؟ یا یہ آزادی سخت شرائط میں مقید ہے؟۔ کثرت ازواج مقید حق ہے۔ ایک بیوی ہوتے دوسری شادی کے لیے دونوں میں انصاف بنیادی شرط ہے۔ اگر انصاف نہیں تو کثرت ازواج حرام بلکہ ظلم ہے۔ایک سوال کے جواب میں جامعہ الازھر کے سربراہ کا کہنا تھا کہ کثرت ازواج کے حوالے سے ہمارا دینی ورثہ مختلف آراء پر مبنی ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ سماجی طورپر مرد اور عورت کے درمیان ہم آہنگی ہو مگر نص صحیح اس فہم کے زیاہ قریب ہے کہ کف سماج میں نہیں بلکہ دین میں ہونا چاہیے۔ سو ایسا ممکن نہیں کہ کوئی شخص دین دار کہلائے مگر وہ میزان اخلاق میں پورا نہ اترے۔شیخ الازھر نے کہا کہ صالح ازدواجی زندگی کی بنیاد مال اور عہدے کے ساتھ نہیں بلکہ دین کے ساتھ وابستگی میں ہے۔ دین ہی ازدواجی زندگی کو درست ٹریک پر رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…