اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

سری لنکا کی حکومت کو منشیات سے لڑنے کے لئے اخلاقی جلاد کی تلاش

datetime 21  فروری‬‮  2019 |

کولمبو (این این آئی)ڈرگ سمگلنگ پر کریک ڈاؤن کرنے کے لیے سری لنکا نے دو ’مضبوط اخلاقی کردار‘ کے حامل جلاد کی تلاش شروع کر دی ہے۔ریاستی روزنامے میں 203 امریکی ڈالرز ماہانہ تنخواہ کی اس ملازمت کا اشتہار دیا گیا۔سری لنکا کے آئین میں سزائے موت کا قانون موجود ہے مگر 1976 سے کسی مجرم کو پھانسی نہیں دی گئی۔پانچ سال پہلے ملک کے آخری جلاد کے مستعفی

ہونے کے بعد سے اب تک حکام مستقل ملازمت پر جلاد ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہ نوکری 18 سے 45 سال کے ایسے سری لنکن مردوں کے لیے ہے جوذہنی طاقت رکھتے ہیں۔آخری جلاد 2014 میں پہلی بار پھانسی گھاٹ دیکھنے کے بعد صدمے کے باعث مستعفی ہوا تھا۔ اس واقعے کے بعد ایک اور جلاد کو ملازمت پر رکھا گیا مگر وہ کبھی کام پر ہی نہیں آیا۔سری لنکا میں تقریباً 1300 مجرم موت کی سزا کاٹ رہے ہیں جن میں سے 48 مجرمان نے منشیات سے جْڑے جرائم کا ارتکاب کیا۔پچھلے سال کے وسط سے اب تک پولیس نے منشیات کی سمگلنگ میں ملوث 50 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ملک کا آئین شہریوں کو ’کسی بھی قانونی پیشے، تجارت، کاروبار یا انٹرپرائز‘ میں شامل ہونے کی آزادی کو تسلیم کرتا ہے۔سنہ 2004 سے ریپ، منشیات سمگلنگ اور قتل جیسے جرائم پر سزائے موت دی جا سکتی ہے لیکن اب تک ان جرائم میں زیادہ سے زیادہ سزا ’عمر قید‘ ہی دی گئی ہے۔7 فروری کو صدر میتھری پالا سری سینا نے پارلیمان کو بتایا کہ ’اگلے دو ماہ میں‘ وہ منشیات سے جْڑے جرائم میں ملوث افراد کو موت کی سزا دینے کا حکم سنائیں گے۔جنوری میں فلپائن کے دورے کے دوران صدر سری سینا نے فلپائنی صدر روڈریگو ڈوٹرٹے کی منشیات کے خلاف مہم کی تعریف کی اور اسے ’دنیا کے لیے مثال‘قرار دیا تھا۔فلپائنی پولیس کے مطابق سنہ 2016 میں صدر ڈوٹرٹے کی منشیات کے خلاف مہم کے بعد سے اب تک 5،000 سے زائد منشیات کے ڈیلر یا منشیات استعمال کرنے والے افراد کو مار دیا گیا ہے۔جولائی 2018 میں صدر سری سینا نے اعلان کیا تھا کہ ملک میں منشیات سے متعلقہ جرائم میں بڑھتی گرفتاریوں کے باعث منشیات سے جْڑے جرائم کے مرتکب افراد کو سزائے موت دینے کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جائے گا۔سری لنکا کے وزیراعظم رانل

وِکریماسنگھے نے اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔سری لنکا کے نیشنل ڈینجریس ڈرگز کنٹرول بورڈ کے مطابق سنہ2013 سے منشیات سے جْڑے جرائم میں گرفتاریوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔چرس اور ہیروئن سری لنکا میں سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی منشیات ہیں۔ حکام نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ایشیا میں منشیات ڈیلرز کے لیے جزیرہ نما ملک اہم گزرگاہ بن سکتی ہے۔پچھلے سال کے وسط سے اب تک پولیس نے منشیات کی سمگلنگ میں ملوث 50 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…