اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

پلوامہ حملہ، جموں میں ہنگامے پھوٹ پڑے ، مسلمانوں کی املاک نذرآتش ، کرفیو نافذ 

datetime 16  فروری‬‮  2019 |

سرینگر (آن لائن )مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارتی فو جی قافلے پر حملے میں 46 سے زیاد اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد مذہبی منافرت میں شدت پیدا ہو گئی ہے اور جموں خطے میں مسلمانوں کو ہراساں کرنے اور ان کی املاک کو نذرآتش کرنے کے واقعات پیش آئے ہیں جس کے بعد جموں کے بیشتر مقامات پر جمعہ سے ہی کرفیو نافذ ہے، تاہم ہفتے کے روز بھی وہاں مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔

ان مظاہروں کی قیادت بھاجپا اور پینتھرز پارٹی کے رہنما کر رہے ہیں۔ پنتھرز پارٹی کے رہنما ہرش دیو سنگھ نے کہا ہے کہ “ہر بار وعدہ کیا جاتا ہے کہ پاکستان کو سبق سکھایا جائے گا، لیکن ہوتا کچھ نہیں۔ اب ہم چپ نہیں بیٹھیں گے۔”جموں کے ساتھ ساتھ پنجاب، ہریانہ، چھتیس گڑھ اور دیگر ریاستوں میں مقیم کشمیری طلبا نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں وہاں ہراساں کیا جارہا ہے اور کشمیر واپسی جانے کے لیے مجبور کیا جارہا ہے۔ اس ساری صورتحال پر کشمیر میں بھی ردعمل ظاہر کیا جارہا ہے۔ گزشتہ سہ پہر لالچوک میں نوجوانوں نے مرکزی حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا۔ تاجربرادری نے دن کے تین بجے احتجاجاً تجارتی سرگرمیاں معطل کردیں اور حکومت پر زور دیا کہ وہ جموں اور دیگر ریاستوں میں مقیم کشمیریوں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ ٹریڈرس فیڈریشن لال چوک کے سربراہ بشیر احمد نے بتایا کہ جموں کی صنعت کا کشمیر کی مارکیٹ پر انحصار ہے، اور کشمیریوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ دو دن کے اندر بند نہیں کیا گیا تو ” ہم جموں کا بائیکاٹ کریں گے۔ ادھر ” سیاسی حلقوں نے بھی کشمیریوں کو ہراساں کئے جانے کے واقعات پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ سابق وزیراعلی محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ ماتم اور تعزیت کی بجائے ہندو کو مسلمان سے اور جموں کو کشمیر سے ٹکرانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ سابق وزیراعلٰی عمر عبداللہ نے بھی کشمیریوں کو درپیش فرقہ وارانہ نفرت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دونوں نے حکومت ہند سے اپیل کی کہ کشمیریوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

بعد میں حکومت ہند نے تمام ریاستوں کی حکومتوں سے کہ وہ کشمیریوں کو احساس تحفظ دلانے کے لیے مناسب اقدامات اْٹھائیں۔ سابق رکن اسمبلی انجنئیر رشید کا کہنا ہے کہ پلوامہ میں ہوئے حملہ کو فرقہ وارانہ رنگ دیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “واقعی یہ ایک افسوس ناک واقعہ تھا۔ ہم ہی جانتے ہیں کہ جوانوں کے اہل خانہ پر کیا گزر رہی ہے۔ لیکن جموں میں جو لوگ سی آر پی ایف جوانوں کی فکر میں فساد پر آمادہ ہے،

انہیں اگر اتنی ہی فکر ہوتی تو ہلاک ہوئے جوانوں میں راجوری کا ایک جوان نصیر احمد بھی ہے، ان کے گھر جاتے اور تعزیت کرتے۔ اس کے برعکس نصیر کے گھر سے تھوڑے فاصلے پر مسلمانوں کو ہراساں کیا گیا۔” واضح رہے 2008 میں بھی جموں کی ہندو اکثریت اور کشمیر کی مسلمان اکثریت کے درمیان امرناتھ شرائن بورڈ کو سرکاری زمین الاٹ کیے جانے کے معاملے پر فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ تاہم بعد میں دونوں فرقوں کے نمائندوں کے درمیان تصفیہ ہوگیا اور چھہ ماہ کی احتجاجی تحریک تھم گئی۔ اکثر حلقے کہتے ہیں کہ 2008 بھی الیکشن کا سال تھا اور اس سال بھی چند ماہ میں پارلیمنٹ اور اسمبلی کے لیے انتخابات ہونے والے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…