اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

برطانیہ میں‌ جوان بچے والدین کے گھروں میں رہنے پر کیوں‌ مجبور ہیں؟

datetime 9  فروری‬‮  2019 |

لندن(این این آئی)برطانیہ میں جہاں سماجی طور پر مشترکہ خاندانی سسٹم رائج نہیں وہاں جوان بچوں کی ایک بڑی تعداد والدین کے گھروں میں رہنے پر مجبور ہے۔ برطانیہ میں شہریوں کو رہائش کے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ الگ مکانات کی عدم دستیابی ہی جوان اولاد کو والدین کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہنے پر مجبور کر رہی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق 1998ء سے 2017ء کے

درمیان 20 سے 34 سال کی عمر کے جوانوں کے والدین کے ساتھ رہنے کے تناسب میں اضافہ ہوا ہے۔ برطانیہ میں ایسے نوجوانوں کی تعداد 20 لاکھ 40 ہزار سے 3 لاکھ 40 ہزار کے درمیان ہے۔برطانیہ کروس پارٹی کے مطابق مملکت میں نوجوانوں کی تعداد 19 اعشاریہ 48 سے بڑھ کر 25 اعشاریہ 91 فی صد تک جا پہنچی ہے۔لویڈز بنک کی رپورٹ کے مطابق سال 2018ء کے اندازوں کے مطابق مْملکت میں مکان کی قیمت اوسط آمدنی سے 7 اعشاریہ 2 فی صد زیادہ ہے جبکہ سال 2007ء میں کم قیمت میں آسانی کے ساتھ مکانات مل جاتے تھے۔رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں 25 سے 44 سال کی درمیانی عمر کے افراد کا الگ رہنے کے رحجان میں کمی آئی ہے۔ سنہ 2002ء میں الگ تھلگ رہنے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ80 ہزار تی اور سال 2017ء کے دوران یہ تعداد کم ہو کر ایک لاکھ 30 ہزار تک آگئی ہے۔مشترکہ گھروں میں رہنے کے رحجان میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ گھروں کی قلت اور مکان کی قوت خرید کی صلاحیت کا نہ ہونا ہے۔برطانیہ کی سیفیٹس کمپنی کے ڈائریکٹر ڈینیل پنٹلی کا کہنا تھا کہ مملکت میں رہائشی سہولیات کا بحران تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے اور خاندان کی معاشی تشکیل نو کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…