اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

یمنی حکومت نے عالمی امن مشن کی تجاویز قبول جبکہ حوثیوں نے مسترد کر دیں

datetime 5  فروری‬‮  2019 |

صنعاء (این این آئی)یمن میں سویڈن جنگ بندی معاہدے پرعمل درآمد کی نگرانی کے لیے قائم کردہ اقوام متحدہ کے امن مشن کے قریبی ذرائع نے کہاہے کہ یمنی حکومت نے مشن کی تجاویز قبول جبکہ حوثی باغیوں نے مسترد کردی ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق اقوام متحدہ کی طرف سے یمن میں جنگ بندی کی نگرانی کے لیے قائم کردہ مشن کے سربراہ پیٹرک کمائرٹ نے حوثیوں پر جنگ بندی معاہدے کی

شرائط پرعمل درآمد کے لیے دباؤ بڑھانے پر زور دیا ہے تاکہ وہ بندرگاہوں سے نکل جائیں اور اپنے جگجوؤں کو مزید نہ پھیلائیں۔ذرائع کے مطابق کمائرٹ نے یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفیتھس اور دیگر عالمی عہدیداروں سے کہا کہ وہ حوثیوں کو جنگ بندی معاہدے کی شرائط پرعمل درآمد کا پابند کرنے کے لیے ان پر دباؤ ڈالیں۔ یہ دباؤ ایک ایسے وقت میں ڈالا جا رہا ہے جب الحدیدہ شہر اور بندرگاہ پر پیش آنے والے بعض واقعات نے جنگ بندی سمجھوتے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ یو این مبصر کمیٹی کے سربراہ پیٹرک کمائرٹ نے یمنی حکومت اور حوثیوں کی قیادت سے بھی ملاقاتیں کی ہیں تاہم ان ملاقاتوں میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی۔ذرائع کے مطابق یمنی حکومت نے اقوام متحدہ کے مبصر مشن کی طرف سے دی گئی تجاویز اور شرائط سے اتفاق کیا ہے مگر دوسری طرف حوثیوں نے سویڈن معاہدے میں طے شدہ شرائط پرعمل درآمد سے فرار اختیار کرنے کی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ ان شرائط میں الحدیدہ سے حوثی جنگجوؤں کا مکمل انخلاء اور شہر کا کنٹرول حکومتی فورسز کیحوالے کرنا شامل تھا مگر حوثی نہ صرف جنگجوؤں کو نکالنے میں پس و پیش سے کام لے رہے ہیں بلکہ مزید جنگجوؤں کی تعیناتی عمل میں لائی جا رہی ہے۔خیال رہے کہ گذشتہ ماہ سویڈن کی میزبانی میں یمنی حکومت اور حوثی ملیشیا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پایا تھا جس کے بعد اقوام متحدہ نے اس کی نگرانی کے لیے 75 مبصر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…