پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

یمنی حکومت نے عالمی امن مشن کی تجاویز قبول جبکہ حوثیوں نے مسترد کر دیں

datetime 5  فروری‬‮  2019 |

صنعاء (این این آئی)یمن میں سویڈن جنگ بندی معاہدے پرعمل درآمد کی نگرانی کے لیے قائم کردہ اقوام متحدہ کے امن مشن کے قریبی ذرائع نے کہاہے کہ یمنی حکومت نے مشن کی تجاویز قبول جبکہ حوثی باغیوں نے مسترد کردی ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق اقوام متحدہ کی طرف سے یمن میں جنگ بندی کی نگرانی کے لیے قائم کردہ مشن کے سربراہ پیٹرک کمائرٹ نے حوثیوں پر جنگ بندی معاہدے کی

شرائط پرعمل درآمد کے لیے دباؤ بڑھانے پر زور دیا ہے تاکہ وہ بندرگاہوں سے نکل جائیں اور اپنے جگجوؤں کو مزید نہ پھیلائیں۔ذرائع کے مطابق کمائرٹ نے یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفیتھس اور دیگر عالمی عہدیداروں سے کہا کہ وہ حوثیوں کو جنگ بندی معاہدے کی شرائط پرعمل درآمد کا پابند کرنے کے لیے ان پر دباؤ ڈالیں۔ یہ دباؤ ایک ایسے وقت میں ڈالا جا رہا ہے جب الحدیدہ شہر اور بندرگاہ پر پیش آنے والے بعض واقعات نے جنگ بندی سمجھوتے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ یو این مبصر کمیٹی کے سربراہ پیٹرک کمائرٹ نے یمنی حکومت اور حوثیوں کی قیادت سے بھی ملاقاتیں کی ہیں تاہم ان ملاقاتوں میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی۔ذرائع کے مطابق یمنی حکومت نے اقوام متحدہ کے مبصر مشن کی طرف سے دی گئی تجاویز اور شرائط سے اتفاق کیا ہے مگر دوسری طرف حوثیوں نے سویڈن معاہدے میں طے شدہ شرائط پرعمل درآمد سے فرار اختیار کرنے کی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ ان شرائط میں الحدیدہ سے حوثی جنگجوؤں کا مکمل انخلاء اور شہر کا کنٹرول حکومتی فورسز کیحوالے کرنا شامل تھا مگر حوثی نہ صرف جنگجوؤں کو نکالنے میں پس و پیش سے کام لے رہے ہیں بلکہ مزید جنگجوؤں کی تعیناتی عمل میں لائی جا رہی ہے۔خیال رہے کہ گذشتہ ماہ سویڈن کی میزبانی میں یمنی حکومت اور حوثی ملیشیا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پایا تھا جس کے بعد اقوام متحدہ نے اس کی نگرانی کے لیے 75 مبصر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…