اتوار‬‮ ، 01 فروری‬‮ 2026 

میکسیکوسرحدی دیوار کی تعمیر پر ڈیموکریٹس کی ناں، ٹرمپ چراغ پا ہو گئے

datetime 10  جنوری‬‮  2019 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکی صدر اور چوٹی کے ڈیموکریٹ قانون سازوں کے درمیان وائٹ باوس میں اجلاس جاری تھا جب ڈونالڈ ٹرمپ اچانک باہر چلے گئے۔امریکی ٹی وی کے مطابق یہ ناخوشگوار صورتحال اس وقت سامنے آئی جب ڈیموکریٹس نے ایک بار پھر امریکا میکسیکو سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لیے رقوم مختص کرنے کا مطالبہ ماننے سے انکار کیا۔ دیوار کی تعمیر کا مقصد

غیر قانونی تارکین وطن کو ملک میں داخل ہونے سے روکنا ہے۔ایک ٹویٹر پیغام میں ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی اور سینیٹ میں ڈیموکریٹ قائد، چَک شومر کے ساتھ اپنی مختصر بات چیت کو ٹرمپ نے وقت کا ضیاع قرار دیا۔صدر نے کہا کہ اْنھوں نے پوچھا اگر وہ 19 روزہ جزوی حکومتی بندش کو ختم کرنے پر اتفاق کریں تو وہ سرحد پر دیوار کی تعمیر یا اسٹیل کی رکاوٹ کی منظوری دیں گے اگر اگلے 30 دِنوں کے دوران سرحدی سکیورٹی پر مذاکرات کیے جاتے ہیں۔ لیکن جب نینسی نے کہا کہ نہیں، میں نے کہا خدا حافظ۔ کوئی راستہ باقی نہیں بچا!۔جب ٹرمپ نے ناکام ملاقات کے بارے میں ابھی ٹویٹ نہیں بھیجا تھا، وائٹ ہاؤس کے باہر شومر نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ایک بار پھر ہم نے غصے کا اظہار‘‘ دیکھا۔ اْنھوں نے کہا کہ ’’وہ باہر نکل گئے اور کہا کہ ہمیں کوئی بات نہیں کرنی۔پلوسی نے کہا کہ ہمارے ذہن میں سرحد کی حفاظت کا اس سے بہتر منصوبہ ہے۔ لیکن، اس کا تعلق دیوار تعمیر کرنے سے نہیں ہے۔ڈیموکریٹس کا کہناتھا کہ تارکین وطن کو سرحد عبور کرنے سے روکنے کے لیے جدید ترین نگرانی کے نظام کو نافذ کیا جائے، جو زیادہ تر وسط امریکی ملکوں سے غیر قانونی طور پر امریکا میں داخل ہوتے ہیں۔نائب صدر مائیک پینس نے جو اس ملاقات کے دوران موجود تھے کہا کہ ہم نے ایک بار پھر ڈیموکریٹس کو سنا جو بات چیت پر رضامند نہیں ہیں۔ صدر اپنے مؤقف پر سختی سے قائم ہیں۔

تاکہ جنوبی سرحد پر بحرانی صورت حال سے نمٹا جا سکے۔حالیہ دنوں کے دوران ٹرمپ اور کانگریس کے قائدین کے درمیان یہ تیسری ملاقات تھی۔امریکا کے چوٹی کے اہلکاروں کے درمیان سخت الفاظ کا تبادلہ ایسے میں ہوا جب امریکی تاریخ کا حکومتی بندش کا دوسرا طویل ترین شٹ ڈاؤن

جاری ہے۔ طویل ترین شٹ ڈاؤن تین دِن زیادہ تھا۔ 22 دسمبر سے حکومتی ملازمین کی ایک چوتھائی کام پر نہیں آتی، جس سے حکومت کے کئی ایک ادارے بند پڑے ہیں، جب کہ وفاقی سول ملازمین جن کی تعداد 800000 ہے ’فرلو‘ پر ہیں یا پھر بغیر اجرت کے کام کرنے پر مجبور ہیں۔

موضوعات:



کالم



اصفہان میں دو دن


کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…