ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

نئے سال کے آغاز پر طالبان کا افغانستان کے اہم ترین صوبے میں بڑا حملہ، انٹیلی جنس سربراہ ، پولیس چیف سمیت کتنے فوجی ہلاک کر ڈالے؟

datetime 1  جنوری‬‮  2019 |

کوہاٹ؍کابل(نیوز ڈیسک)افغان صوبہ سرائے پل میں طالبان کے ساتھ شدید جھڑپوں اور لڑائی میںافغان سیکیورٹی فورسز کے 23 افسرواہلکار ہلاک اور 25 دیگر زخمی ہوگئے۔غیرملکی خبررساں ادارے نے صوبائی کونسل کے سربراہ محمدنوررحمانی اور ممبر محمد آصف صدیقی کے حوالے سے بتایا ہے کہ گزشتہ رات بھاری ہتھیاروں سے لیس طالبان حملہ آوروں نے صوبہ سرائے پل کے

ضلع صیاد میں افغان سیکیورٹی فورسز کے دو چیک پوسٹوں پر حملہ کیا جس کے بعد دوطرفہ شدیدجھڑپیں شروع ہوگئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ رات سات بجے شروع ہونے شدید لڑائی تقریباً سات گھنٹوں تک جاری رہی جس کے دوران افغان سیکیورٹی فورسز کو بھاری جانی نقصان اْٹھاناپڑا۔ محمدنوررحمانی کے مطابق ان جھڑپوں میں افغان پولیس و فوج کے23 افسرواہلکارہلاک جبکہ 25 دیگر شدید زخٰمی ہوگئے۔ کونسل کے رکن محمدآصف صدیقی کے مطابق ہلاک ہونیو الوں میں انٹیلی سربراہ‘ مقامی پولیس سربراہ اور آرمی کے ایک کمانڈر بھی شامل ہیں۔ ادھر صوبائی وزارت صحت کے ڈائریکٹر نوراحمد اسحاق زئی کے مطابق اب تک مقامی ہسپتال میں 20 لاشیں پہنچائی گئی ہیں جبکہ 23 زخمیوں کو بھی لایا گیاہے۔محمدنوررحمانی کے مطابق ان جھڑپوں میں افغان پولیس و فوج کے23 افسرواہلکارہلاک جبکہ 25 دیگر شدید زخٰمی ہوگئے۔ کونسل کے رکن محمدآصف صدیقی کے مطابق ہلاک ہونیو الوں میں انٹیلی سربراہ‘ مقامی پولیس سربراہ اور آرمی کے ایک کمانڈر بھی شامل ہیں۔ ادھر صوبائی وزارت صحت کے ڈائریکٹر نوراحمد اسحاق زئی کے مطابق اب تک مقامی ہسپتال میں 20 لاشیں پہنچائی گئی ہیں جبکہ 23 زخمیوں کو بھی لایا گیاہے۔ اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی مدد کے لئے مزید کمک پہنچانے کے بعد طالبان پسپا ہوگئے تاہم طالبان کی جانی نقصان کے بارے میں فی الحال معلوم نہیں ہوسکا۔طالبان ترجمان قاری محمدیوسف احمدی نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ طالبان نے کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…