اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

سعودی عرب کامتعدد اہم شعبوں سے غیر ملکیوں کی مکمل چھٹی کا فیصلہ،سعودی شہریوں کو روز گار کی فراہمی اور 6 ارب ریال کی بچت ہوگی

datetime 30  دسمبر‬‮  2018 |

ریاض ( آن لائن) سعودی عرب نے راشن کے کاروبار سے تارکین وطن کی مکمل چھٹی کرنے کا منصوبہ بنا لیا۔راشن کے کاروبار کی سعودائزیشن سے 35 ہزار سعودی شہری روزگار پائیں گے جبکہ 6 ارب سعودی ریال کو ملک سے باہر جانے سے روکا جا سکے گا۔سعودی عرب کے ماہرین معاشیات نے راشن کے کاروبار میں

غیر ملکی تارکین وطن کا کردار ختم کرنے پر زور دینا شروع کر دیا۔انکا کہنا تھا کہ رواشن کے کاروبار کو اگر سعودی شہریوں کے حوالے کر دیا جائے تو سالانہ 6 ارب سعودی ریال کو ملک سے باہر جانے سے روکا جا سکے گا۔سعودی ماہرین معاشیات کا ماننا ہے کہ اس فیصلے پر عمل ددرآمد کے ذریعے 35 ہزار سے زائد سعودی شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کئیے جا سکیں گے۔انکا کہنا تھا کہ اس فیصلے کو مکمل طور پر اور اچانک نافذ العمل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کو مرحلہ وار عملی جامہ پہنانا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ راشن کا کاروبار چلانے کے لیے زیادہ سرمایے اور تکنیکی تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ یہ کام معمولی سی تربیت سے بھی کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے اس پر پر مزید روزشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یوں غیرملکی تارکین وطن کے ہاتھوں سعودی شہریوں کا استحصال روکا جا سکے گا۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سعودی شہری راشن خریدنے کے لیے تارکین وطن کی نسبت سعودی شہریوں کو ترجیح دیتے ہیں۔  سعودی عرب نے راشن کے کاروبار سے تارکین وطن کی مکمل چھٹی کرنے کا منصوبہ بنا لیا۔راشن کے کاروبار کی سعودائزیشن سے 35 ہزار سعودی شہری روزگار پائیں گے جبکہ 6 ارب سعودی ریال کو ملک سے باہر جانے سے روکا جا سکے گا۔سعودی عرب کے ماہرین معاشیات نے راشن کے کاروبار میں غیر ملکی تارکین وطن کا کردار ختم کرنے پر زور دینا شروع کر دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…