ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب کامتعدد اہم شعبوں سے غیر ملکیوں کی مکمل چھٹی کا فیصلہ،سعودی شہریوں کو روز گار کی فراہمی اور 6 ارب ریال کی بچت ہوگی

datetime 30  دسمبر‬‮  2018 |

ریاض ( آن لائن) سعودی عرب نے راشن کے کاروبار سے تارکین وطن کی مکمل چھٹی کرنے کا منصوبہ بنا لیا۔راشن کے کاروبار کی سعودائزیشن سے 35 ہزار سعودی شہری روزگار پائیں گے جبکہ 6 ارب سعودی ریال کو ملک سے باہر جانے سے روکا جا سکے گا۔سعودی عرب کے ماہرین معاشیات نے راشن کے کاروبار میں

غیر ملکی تارکین وطن کا کردار ختم کرنے پر زور دینا شروع کر دیا۔انکا کہنا تھا کہ رواشن کے کاروبار کو اگر سعودی شہریوں کے حوالے کر دیا جائے تو سالانہ 6 ارب سعودی ریال کو ملک سے باہر جانے سے روکا جا سکے گا۔سعودی ماہرین معاشیات کا ماننا ہے کہ اس فیصلے پر عمل ددرآمد کے ذریعے 35 ہزار سے زائد سعودی شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کئیے جا سکیں گے۔انکا کہنا تھا کہ اس فیصلے کو مکمل طور پر اور اچانک نافذ العمل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کو مرحلہ وار عملی جامہ پہنانا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ راشن کا کاروبار چلانے کے لیے زیادہ سرمایے اور تکنیکی تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ یہ کام معمولی سی تربیت سے بھی کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے اس پر پر مزید روزشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یوں غیرملکی تارکین وطن کے ہاتھوں سعودی شہریوں کا استحصال روکا جا سکے گا۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سعودی شہری راشن خریدنے کے لیے تارکین وطن کی نسبت سعودی شہریوں کو ترجیح دیتے ہیں۔  سعودی عرب نے راشن کے کاروبار سے تارکین وطن کی مکمل چھٹی کرنے کا منصوبہ بنا لیا۔راشن کے کاروبار کی سعودائزیشن سے 35 ہزار سعودی شہری روزگار پائیں گے جبکہ 6 ارب سعودی ریال کو ملک سے باہر جانے سے روکا جا سکے گا۔سعودی عرب کے ماہرین معاشیات نے راشن کے کاروبار میں غیر ملکی تارکین وطن کا کردار ختم کرنے پر زور دینا شروع کر دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…