ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

چین کے سابق انٹیلی جنس چیف کو رشوت کے الزام میں عمر قید کی سزا

datetime 28  دسمبر‬‮  2018 |

بیجنگ (این این آئی)چین میں ایک عدالت نے سابق انٹیلی جنس چیف ما جیان کو رشوت سمیت دیگر جرائم میں ملوث ہونے کے الزام میں عمر قید کی سزا سنادی۔میڈیارپورٹس کے مطابق ما جیان کے خلاف 2015 میں تفتیش کا آغاز ہوا تھا اور ایک سال بعد انھیں کمیونسٹ پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔

شمالی مشرقی صوبہ لیاوننگ کی عدالت کا کہنا تھاکہ انھوں نے اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے اور وہ سزا کے خلاف اپیل نہیں کریں گے۔چین میں صدر شی جن پنگ کی جانب سے کرپشن کے خلاف جاری مہم میں کئی اعلیٰ عہدیداروں کو ان کے عہدوں سے ہٹایا جا چکا ہے۔ما جیان کا سٹیٹ سکیورٹی کی وزارت میں نائب وزیر تھے، یہ وزارت غیرملکی اور کاؤنٹر انٹیلی جنس آپریشن کی نگرانی کرتی ہے۔ان کا کیس چین میں مطلوب جلاوطن پراپرٹی ٹائیکون گؤ وینگئی سے منسلک ہے، جنھوں نے کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ عہدیداروں پر کرپشن کے الزامات شائع کیے تھے۔ڈالیان انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ ما جیان نے اپنے عہدے کا استعمال کرتے ہوئے نیویارک میں مقیم گؤ وینگئی کو کاروباری فائدہ پہنچانے میں مدد کی۔بیان کے مطابق انھوں نے دس کروڑ یوان (ایک کروڑ 45 لاکھ امریکی ڈالر) بطور رشوت لیے اور اندرونی معلومات کی بنیاد پر تجارتی حصص میں فائدہ پہنچایا۔مدعا علیہ ما جیان کی رشوت کی رقم بہت بڑی تھی اور قومی اور عوامی مفادات کا بالخصوص بھاری نقصان ہوا، عوامی ملازمین کی دیانتداری کے شدید برخلاف ہے۔اس حوالے سے ما جیان اور گؤ وینگئی کا مؤقف حاصل نہیں ہو سکا۔چین کی حکومت کا کہنا تھاکہ صدر شی جن پنگ نے 2012 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد شروع کی گئی کرپشن مخالف مہم کے دوران دس لاکھ سے زائد اہلکاروں کو سزا دی جا چکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…