جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

تاج محل کو دیکھنے کیلئے فیس میں اضافہ کر دیاگیا

datetime 12  دسمبر‬‮  2018 |

آگرہ(این این آئی)تاج محل کو دیکھنے کے لیے ہر روز دس سے پندرہ ہزار افراد آتے ہیں جن میں اکثریت بھارتی شہریوں کی ہوتی ہے۔ سال 2016 میں تاج محل کا دیدار کرنے کیلئے  65 لاکھ افراد نے اس سفید سنگ مرمر کے مقبرے کا رخ کیا۔ یہ مقبرہ مشہور مغل حکمراں شاہ جہاں نے

اپنی بیگم ممتاز محل کے واسطے تعمیر کروایا۔بھارت میں حکام نے محبت کی بے مثال علامت سمجھے جانے والے تاج محل کو دیکھنے کیلئے شہریوں اور غیر ملکیوں کی داخلہ فیس میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد آنیوالے   افراد کی مجموعی تعداد کو کم کرنا اور ملک کے اس اہم ترین سیاحتی مقام کو لاحق نقصانات پر روک لگانا ہے۔نئے اعلان کے تحت تاج محل کو دیکھنے کیلئے آنیوالے مقامی بھارتی شہریوں کو 50 روپے کے بجائے اب 250 روپے داخلہ فیس ادا کرنا ہو گی جب کہ دنیا کے عجائبات میں شمار ہونے والی اس پرشکوہ عمارت کے دیدار سے لطف اندوز ہونےکیلئے غیر ملکی شہریوں اور سیاحوں کے واسطے داخلہ فیس اب 16 ڈالر کے بجائے 19 ڈالر ہو گی۔بھارت میں آثار قدیمہ کے تحفظ کی اتھارٹی کے ایک عہدے دار کے مطابق داخلہ فیس میں حالیہ اضافے سے تاج محل کو دیکھنےکیلئے آنے والوں کی تعداد میں 15فیصد سے 20 فیصدکی کمی واقع ہو گی۔ عہدے دار کا کہنا ہے کہ داخلہ فیس سے حاصل آمدنی کو تاج محل کی دیکھ بھال اور تحفظ پر خرچ کیا جائے گا۔ماہرین کے نزدیک یومیہ بنیادوں پر آنے والوں کی بڑی تعداد سے تاج محل کے سنگ مرمر کے فرش، دیواروں اور دیگر متعلقہ اشیا کو مستقل ضرر پہنچتا ہے۔علاوہ ازیں حکام اس بات کی بھی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ آگرہ شہر میں آلودگی کی بلند سطح کے سبب تاج محل کے سنگ مرمر کا رنگ زرد پڑنے سے بچانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…